کی عبادت کر رہے ہیں جو انہیں آسمان سے کچھ بھی روزی دینے کا اختیار نہیں رکھتے کیونکہ وہ زمین کی خشکی دور کرکے اس میں شادابی لانے کیلئے آسمانوں سے ایک قطرہ پانی تک نازل کرنے پر قادر نہیں اور نہ ہی وہ زمین سے کچھ روزی دینے کا اختیار رکھتے ہیں کیونکہ زمین سے نباتا ت اور پھل نکالنے پر انہیں کوئی قدرت حاصل نہیں اور نہ ہی ان کے بت زمین وآسمان میں سے کسی چیز کے مالک ہیں بلکہ زمین آسمان اور ان میں موجود ہر چیز کا (حقیقی) مالک صرف اللّٰہ تعالیٰ ہے۔ تو تم اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے لیے شریک نہ ٹھہراؤ بیشک اللّٰہ تعالیٰ جانتا ہے کہ مخلوق میں اس کا کوئی مثل نہیں ہے اور تم یہ بات نہیں جانتے۔(1)
ضَرَبَ اللہُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوۡکًا لَّا یَقْدِرُ عَلٰی شَیۡءٍ وَّمَنۡ رَّزَقْنٰہُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَہُوَ یُنۡفِقُ مِنْہُ سِرًّا وَّجَہۡرًا ؕ ہَلْ یَسْتَوٗنَ ؕ اَلْحَمْدُ لِلہِ ؕ بَلْ اَکْثَرُہُمْ لَا یَعْلَمُوۡنَ ﴿۷۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: اللّٰہ نے ایک کہاوت بیان فرمائی ایک بندہ ہے دوسرے کی مِلک آپ کچھ مقدور نہیں رکھتا اور ایک وہ جسے ہم نے اپنی طرف سے اچھی روزی عطا فرمائی تو وہ اس میں سے خرچ کرتا ہے چھپے اور ظاہر کیا وہ برابر ہوجائیں گے سب خوبیاں اللّٰہ کو ہیں بلکہ ان میں اکثر کو خبر نہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ نے ایک بندے کی مثال بیان فرمائی جو خود کسی کی ملکیت میں ہے ، وہ کسی شے پر قادر نہیں اور ایک وہ ہے جسے ہم نے اپنی طرف سے اچھی روزی عطا فرمارکھی ہے تو وہ اس میں سے پوشیدہ اور اعلانیہ خرچ کرتا ہے ، کیا وہ سب برابر ہوجائیں گے؟ تمام تعریفیں اللّٰہ کیلئے ہیں بلکہ ان میں اکثر جانتے نہیں۔
{ضَرَبَ اللہُ مَثَلًا عَبْدًا:اللّٰہ نے ایک بندے کی مثال بیان فرمائی۔} اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے دو شخصوں کی مثال بیان فرما کرشرک کا رد فرمایا ہے۔ اس مثال کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک شخص ایسا ہے جو خود کسی کی ملکیت میں ہے اوروہ مالک نہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیر طبری، النحل، تحت الآیۃ: ۷۳-۷۴، ۷/۶۲۰-۶۲۱، مدارک، النحل، تحت الآیۃ: ۷۳، ص۶۰۲-۶۰۳، ملتقطاً۔