اللّٰہ تعالیٰ نے تمہیں ستھری چیزوں یعنی طرح طرح کے غلوں ،پھلوں اورکھانے پینے کی چیزوں سے روز ی دی تو کیاوہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی ان نعمتوں کے باوجود شرک اور بت پرستی پر ایمان لاتے ہیں اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے احسان کے ساتھ کفر کرتے ہیں۔(1)
اللّٰہ تعالیٰ کے فضل و نعمت سے کیا مراد ہے؟
علامہ احمد بن محمود نسفی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:آیت میں اللّٰہ تعالیٰ کے فضل و نعمت سے مراد سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ذاتِ گرامی ہے یا اس سے وہ نعمتیں مراد ہیں جو اللّٰہ تعالیٰ نے ان کے لئے حلال کیں۔(2)
وَیَعْبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ مَا لَا یَمْلِکُ لَہُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِ شَیْـًٔا وَّلَا یَسْتَطِیۡعُوۡنَ ﴿ۚ۷۳﴾ فَلَا تَضْرِبُوۡا لِلہِ الۡاَمْثَالَ ؕ اِنَّ اللہَ یَعْلَمُ وَ اَنۡتُمْ لَا تَعْلَمُوۡنَ ﴿۷۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اللّٰہ کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جو انہیں آسمان اور زمین سے کچھ بھی روزی دینے کا اختیار نہیں رکھتے نہ کچھ کرسکتے ہیں۔ تو اللّٰہ کے لیے مانند نہ ٹھہراؤ بیشک اللّٰہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور اللّٰہ کے سوا ایسوں کی عبادت کرتے ہیں جو انہیں آسمان اور زمین سے کچھ بھی روزی دینے کا اختیار نہیں رکھتے اور نہ وہ کچھ کرسکتے ہیں۔ توتم اللّٰہ کے لیے مِثل نہ ٹھہراؤ،بیشک اللّٰہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
{وَیَعْبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ:اور اللّٰہ کے سوا ایسوں کی عبادت کرتے ہیں۔} اس سے پہلی آیتوں میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت پر دلالت کرنے والی مختلف چیزیں بیان فرمائیں اور اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے بتوں کی عبادت کرنے والوں کا رد فرمایا ہے۔(3) چنانچہ اس آیت اورا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ مشرکین اللّٰہ تعالیٰ کے سوا ایسے بتوں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…روح البیان، النحل، تحت الآیۃ: ۷۲، ۵/۵۸، خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۷۲، ۳/۱۳۴، ملتقطاً۔
2…مدارک، النحل، تحت الآیۃ: ۷۲، ص۶۰۲۔
3…تفسیرکبیر، النحل، تحت الآیۃ: ۷۳، ۷/۲۴۵۔