Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
350 - 601
ہونے کی وجہ سے کسی چیز پر قادر نہیں، جبکہ ایک شخص ایسا ہے جسے اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے اچھی روزی عطا فرما رکھی ہے تو وہ اس میں سے پوشیدہ اور اعلانیہ خرچ کرتا ہے ،جیسے چاہتا ہے ا س میں تَصَرُّف کرتا ہے تو پہلا شخص عاجز ہے، مملوک اور غلام ہے جبکہ دوسرا شخص آزاد، مالک اور صاحبِ مال ہے اور وہ اللّٰہ تعالیٰ کے فضل سے قدرت و اختیار بھی رکھتا ہے تو کیا یہ دونوں برابر ہوجائیں گے؟ ہر گز نہیں، تو جب غلام اور آزاد شخص برابر نہیں ہوسکتے حالانکہ یہ دونوں اللّٰہ تعالیٰ کے بندے ہیں توخالق ،مالک اور قادر رب تعالیٰ کے ساتھ قدرت و اختیارنہ رکھنے والے بت کیسے شریک ہوسکتے ہیں اور ان کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کا مثل قرار دینا کیسا بڑا ظلم اورجہل ہے۔(1)
وَضَرَبَ اللہُ مَثَلًا رَّجُلَیۡنِ اَحَدُہُمَاۤ اَبْکَمُ لَا یَقْدِرُ عَلٰی شَیۡءٍ وَّہُوَ کَلٌّ عَلٰی مَوْلٰىہُ ۙ اَیۡنَمَا یُوَجِّہۡہُّ لَایَاۡتِ بِخَیۡرٍ ؕ ہَلْ یَسْتَوِیۡ ہُوَ ۙ وَمَنۡ یَّاۡمُرُ بِالْعَدْلِ ۙ وَہُوَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیۡمٍ ﴿۷۶﴾٪
ترجمۂکنزالایمان:اور اللّٰہ نے کہاوت بیان فرمائی دو مرد ایک گونگا جو کچھ کام نہیں کرسکتا اور وہ اپنے آقا پر بوجھ ہے جدھر بھیجے کچھ بھلائی نہ لائے کیا برابر ہوجائے گا یہ اور وہ جو انصاف کا حکم کرتا ہے اور وہ سیدھی راہ پر ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اللّٰہ نے دو مردوں کی مثال بیان فرمائی ، ان میں سے ایک گونگا ہے جو کسی شے پر قدرت نہیں رکھتا اور وہ اپنے آقا پر (صرف) بوجھ ہے ، (اس کا آقا) اسے جدھر بھیجتاہے وہ کوئی خیر لے کر نہیں آتا تو کیا وہ اور دوسرا وہ جو عدل کا حکم کرتا ہے اور وہ سیدھے راستے پر بھی ہے کیا دونوں برابر ہیں؟ 
{وَضَرَبَ اللہُ مَثَلًا رَّجُلَیۡنِ:اور اللّٰہ نے دو مردوں کی مثال بیان فرمائی۔} اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے مومن اور کافر کی ایک مثال بیان فرمائی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک شخص گونگا ہے جو کسی شے پر قدرت نہیں رکھتا کیونکہ نہ وہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…جلالین، النحل، تحت الآیۃ: ۷۵، ص۲۲۳، روح البیان، النحل، تحت الآیۃ: ۷۵، ۵/۵۹-۶۰، خزائن العرفان، النحل، تحت الآیۃ: ۷۵، ص۵۱۳، ملتقطاً۔