Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
341 - 601
ہیں کہ جو قادر برحق زمین کو اس کی موت یعنی نَشو و نَما کی قوت فنا ہوجانے کے بعد پھر زندگی دیتا ہے وہ انسان کو اس کے مرنے کے بعد بے شک زندہ کرنے پر قادر ہے۔(1) 
وَ اِنَّ لَکُمْ فِی الۡاَنْعَامِ لَعِبْرَۃً ؕ نُسْقِیۡکُمۡ مِّمَّا فِیۡ بُطُوۡنِہٖ مِنۡۢ بَیۡنِ فَرْثٍ وَّدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِّلشّٰرِبِیۡنَ ﴿۶۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک تمہارے لیے چوپایوں میں نگاہ حاصل ہونے کی جگہ ہے ہم تمہیں پلاتے ہیں اس چیز میں سے جو ان کے پیٹ میں ہے گوبر اور خون کے بیچ میں سے خالص دودھ گلے سے سہل اترتا پینے والوں کے لیے۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک تمہارے لیے مویشیوں میں غوروفکر کی باتیں ہیں (وہ یہ کہ) ہم تمہیں ان کے پیٹوں سے گوبر اور خون کے درمیان سے خالص دودھ (نکال کر) پلاتے ہیں جو پینے والے کے گلے سے آسانی سے اترنے والا ہے۔
{وَ اِنَّ لَکُمْ:اور بیشک تمہارے لیے ۔} فرمایا گیا کہ اللّٰہ تعالیٰ کی عظمت و قدرت کی نشانیاں ہر چیز میں موجود ہیں حتّٰی کہ اگر تم اپنے مویشیوں میں بھی غور کرو تو تمہیں غور وفکر کرنے کی بہت سی باتیں مل جائیں گی اور اللّٰہ تعالیٰ کی حکمت کے عجائب اورا س کی قدرت کے کمال پر تمہیں آگاہی حاصل ہوجائے گی۔ تم غورکرو کہ ہم تمہیں ان جانوروں کے پیٹوں سے گوبر اور خون کے درمیان سے خالص دودھ نکال کرپلاتے ہیں جو پینے والے کے گلے سے آسانی سے اترنے والا ہے، جس میں کسی چیز کی آمیزش کا کوئی شائبہ نہیں حالانکہ حیوان کے جسم میں غذا کا ایک ہی مقام ہے جہاں چارا ،گھاس ، بھوسہ وغیرہ پہنچتا ہے اور دودھ، خون گوبر سب اسی غذا سے پیدا ہوتے ہیں اوران میں سے ایک دوسرے سے ملنے نہیں پاتا ۔ دودھ میں نہ خون کی رنگت کا شائبہ ہوتا ہے نہ گوبر کی بوکا، نہایت صاف اور لطیف برآمد ہوتا ہے، اس سے اللّٰہ تعالیٰ کی حکمت کی عجیب کاریگری کا اِظہار ہے ۔(2)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…قرطبی، النحل، تحت الآیۃ: ۶۵،۵/۸۸، الجزء العاشر، جلالین مع صاوی، النحل، تحت الآیۃ: ۶۵، ۳/۱۰۷۶، ملتقطاً۔
2…خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۶۶، ۳/۱۲۹-۱۳۰، مدارک، النحل، تحت الآیۃ: ۶۶، ص۶۰۰، خزائن العرفان، النحل، تحت الآیۃ: ۶۶، ص۵۱۰، ملتقطاً۔