کفار کے شُبہات کا ازالہ:
صدرُ الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں’’(اس سے ) اوپر(والی آیت میں) مسئلۂ بعث کا بیان ہوچکا ہے یعنی مُردوں کو زندہ کئے جانے کا،کفار اس کے منکر تھے اورانہیں اس میں دو شُبہے در پیش تھے، ایک تویہ کہ جو چیز فاسد ہوگئی اور اس کی حیات جاتی رہی اس میں دوبارہ پھر زندگی کس طرح لوٹے گی؟ اس شبہ کا ازالہ تو اس سے پہلی آیت میں فرما دیا گیا کہ تم دیکھتے رہتے ہو کہ ہم مردہ زمین کو خشک ہونے کے بعد آسمان سے پانی برسا کر حیات عطا فرمادیا کرتے ہیں تو قدرت کا یہ فیض دیکھنے کے بعد کسی مخلوق کا مرنے کے بعد زندہ ہونا ایسے قادرِ مُطْلَق کی قدرت سے بعید نہیں ۔دوسراشبہ کفار کا یہ تھا کہ جب آدمی مرگیا اور اس کے جسم کے اَجزامُنْتَشر ہوگئے اور خاک میں مل گئے، وہ اجزاء کس طرح جمع کئے جائیں گے اور خاک کے ذروں سے اُن کوکس طرح ممتاز کیا جائے گا؟ اِس آیتِ کریمہ میں جو صاف دودھ کا بیان فرمایا اس میں غورکرنے سے وہ شبہ بالکل نیست و نابُود ہوجاتا ہے کہ قدرتِ الٰہی کی یہ شان تو روزانہ دیکھنے میں آتی ہے کہ وہ غذا کے مخلوط اجزاء میں سے خالص دودھ نکالتا ہے اور اس کے قرب و جوار کی چیزوں کی آمیزش کا شائبہ بھی اس میں نہیں آتا، اُس حکیم برحق کی قدرت سے کیا بعید کہ انسانی جسم کے اجزاء کو منتشر ہونے کے بعد پھر مُجتَمع (یعنی جمع) فرمادے ۔(1) صوفیاءِ کرام فرماتے ہیں کہ اے انسان! جیسے تیرے رب نے تجھے خالص دودھ پلایا جس میں گوبر، خون کی بال بھر آمیزش نہیں ہے توتو بھی اپنے رب عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں خالص عبادت پیش کر جس میں ریا وغیرہ کی آمیزش نہ ہو۔(2)
وَمِنۡ ثَمَرٰتِ النَّخِیۡلِ وَالۡاَعْنَابِ تَتَّخِذُوۡنَ مِنْہُ سَکَرًا وَّ رِزْقًا حَسَنًا ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوۡنَ ﴿۶۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور کھجور اور انگور کے پھلوں میں سے کہ اس سے نبیذ بناتے ہو اور اچھا رزق بیشک اس میں نشانی ہے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خزائن العرفان، النحل، تحت الآیۃ: ۶۶، ص۵۱۰-۵۱۱۔
2…نور العرفان، النحل، تحت الآیۃ: ۶۶، ص۴۳۷، ملخصاً۔