Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
340 - 601
قرآن کریم کے اَحکام اور حقائق بیان کرنے کا منصب:
	علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ’’عام لوگوں کے سامنے قرآنِ کریم کے اَحکام کو بیان کرنے اور خاص لوگوں کے سامنے قرآنِ مجید کے حقائق کو بیان کرنے کا منصب اصلا ًنبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ہے اور ان کی پیروی کرتے ہوئے زمانہ در زمانہ ان کے وارثوں کا ہے چنانچہ علماء ِظاہر واضح بیان کے ساتھ لوگوں کے ان اختلافات کا تَصفِیَہ کرتے ہیں جو ان کے ظاہر کے ساتھ متعلق ہیں اور علماء ِباطن صحیح کشف کے ساتھ لوگوں کے ان اختلافات کو دور کرتے ہیں جن کا تعلق ان کے باطن کے ساتھ ہے،ان میں سے ہر ایک کا مَشرب ہے اور اسے تھامنے والا نامراد نہیں ہوتا، یہ دین کے ستون اور مسلمانوں کے سلطان ہیں ۔(1)
وَاللہُ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِہِ الۡاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوۡنَ ﴿۶۵﴾٪
ترجمۂکنزالایمان: اور اللّٰہ نے آسمان سے پانی اتارا تو اس سے زمین کو زندہ کردیا اس کے مرے پیچھے بیشک اس میں نشانی ہے ان کو جو کان رکھتے ہیں۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اللّٰہ نے آسمان سے پانی اتارا تو اس کے ذریعے زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کردیا ۔ بیشک اس میں سننے والوں کے لئے نشانی ہے۔
{وَاللہُ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ:اور اللّٰہ نے آسمان سے پانی اتارا۔} اس آیت سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے پھر اپنی نعمتوں اور قدرت کے کمال کو بیان فرمایا ہے ، چنانچہ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی اتارا تو اس کے ذریعے زمین کو خشک اور بے سبزہ ہونے کے بعد سرسبزی و شادابی بخش کر زندہ کردیا۔ یہ سب اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے لیکن اس بات کو سمجھنا ان لوگوں کا کام ہے جو دل سے سنتے ہیں اورسن کر سمجھتے اور غور کرتے ہیں اور اس نتیجے پر پہنچتے 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…روح البیان، النحل، تحت الآیۃ: ۶۴، ۵/۴۷۔