اللّٰہ تعالیٰ نے تاجدارِ رسالتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو تسلی دی :
ابو عبداللّٰہ محمد بن احمد قرطبی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ،اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دے رہا ہے کہ( صرف آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی قوم نے ہی آپ کو نہیں جھٹلایا بلکہ) آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے پہلے انبیاء کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بھی ان کی امتوں نے جھٹلایا تھا۔(1)
وَ مَاۤ اَنۡزَلْنَا عَلَیۡکَ الْکِتٰبَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَہُمُ الَّذِی اخْتَلَفُوۡا فِیۡہِ ۙ وَ ہُدًی وَّ رَحْمَۃً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوۡنَ ﴿۶۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور ہم نے تم پر یہ کتاب نہ اتاری مگر اس لیے کہ تم لوگوں پر روشن کردو جس بات میں اختلاف کریں اور ہدایت اور رحمت ایمان والوں کے لیے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم نے تم پر یہ کتاب اس لئے نازل فرمائی ہے تاکہ تم لوگوںکیلئے وہ بات واضح کردو جس میں انہیں اختلاف ہے اوریہ کتاب ایمان والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔
{وَ مَاۤ اَنۡزَلْنَا عَلَیۡکَ الْکِتٰبَ:اور ہم نے تم پر یہ کتاب اس لئے نازل فرمائی ہے۔} یعنی اے حبیب!صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہم نے آپ پر یہ قرآن اس لئے نازل فرمایا ہے تاکہ آپ لوگوںکیلئے اُمورِ دین سے وہ بات واضح کردیں جس میں انہیں اختلاف ہے جیسے توحید، عبادات اور معاملات کے اَحکام وغیرہ ،یوں آپ کے بیان کے ذریعے ان پر حجت قائم ہو جائے اور ہم نے قرآ ن ا س لئے نازل فرمایا ہے کہ یہ ایمان والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے کیونکہ ایمان والے ہی اس سے نفع اٹھا سکتے ہیں۔(2)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…قرطبی، النحل، تحت الآیۃ: ۶۳، ۵/۸۷، الجزء العاشر ۔
2…تفسیرقرطبی، النحل، تحت الآیۃ: ۶۴، ۵/۸۸، الجزء العاشر، جلالین مع صاوی، النحل، تحت الآیۃ: ۶۴، ۳/۱۰۷۶، ملتقطاً ۔