بات کا کوئی اعتبار نہیں بلکہ حقیقت میں ان کے لئے آگ ہے اور یہ کہ وہ جہنمیوں کے آگے آگے جانے والے ہوں گے اور جہنم ہی میں چھوڑ دیئے جائیں گے۔(1)
تَاللہِ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤی اُمَمٍ مِّنۡ قَبْلِکَ فَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیۡطٰنُ اَعْمٰلَہُمْ فَہُوَ وَلِیُّہُمُ الْیَوْمَ وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۶۳﴾
ترجمۂکنزالایمان:خدا کی قسم ہم نے تم سے پہلے کتنی امتوں کی طرف رسول بھیجے تو شیطان نے ان کے کوتک ان کی آنکھوں میں بھلے کر دکھائے تو آج وہی ان کا رفیق ہے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:اللّٰہ کی قسم! ہم نے تم سے پہلے کتنی امتوں کی طرف رسول بھیجے تو شیطان نے لوگوں کیلئے ان کے اعمال کو خوشنما بنادیا تو آج وہی ان کا ساتھی ہے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
{تَاللہِ:اللّٰہ کی قسم!} اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی قسم بیان کر کے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،ہم نے آپ سے پہلے سابقہ امتوں کی طرف جتنے رسول بھیجے، انہوں نے بھی آپ کی طرح اپنی امتوں کو توحید کی دعوت دی، صرف ایک اللّٰہ کی عبادت کرنے کا کہا اور جھوٹے معبودوں کو چھوڑ دینے کا حکم دیا جبکہ شیطان نے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے ساتھ کفر کرنے اور بتوں کی عبادت پر قائم رہنے کو ان کی نظروں میں خوشنما بنادیا یہاں تک کہ انہوں نے اپنے رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلا یا اور اللّٰہ تعالیٰ کے اَحکامات کو رد کر دیا تو دنیا(یا آخرت) میں شیطان ہی ان کاساتھی ہے اور وہ نہایت برا ساتھی ہے۔ قیامت کے دن جب یہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے تو ا س وقت شیطان کی مدد انہیں کوئی نفع نہ دے گی بلکہ اس وقت ان کے لئے دردناک عذاب ہو گا۔(2)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مدارک، النحل، تحت الآیۃ: ۶۲، ص۵۹۹، خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۶۲، ۳/۱۲۹، صاوی، النحل، تحت الآیۃ: ۶۲، ۳/۱۰۷۵، ملتقطاً۔
2…تفسیرطبری، النحل، تحت الآیۃ: ۶۳، ۷/۶۰۵۔