Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
332 - 601
گئے ،لیکن یہ آفات ختم ہو جانے کے بعد اب ان کا جو حال ہے وہ سب کے سامنے ہے۔
{فَتَمَتَّعُوۡا:تو  فائدہ اٹھالو۔} اس آیت میں ان لوگوں کے لئے وعید ہے جن کے اوصاف مذکورہ بالا آیات میں بیان ہوئے ،اللّٰہ تعالیٰ ان سے ارشاد فرماتا ہے کہ تم اس دنیا کی زندگی میں اپنی مدت پوری ہونے تک فائدہ اٹھا لو اور جب تم اپنی زندگی کا وقت پورا کر کے اپنے رب عَزَّوَجَلَّسے ملو گے تو اس وقت اپنے کئے ہوئے اعمال کا وبال جان جاؤ گے اور اپنے برے کاموں کا انجام دیکھ لو گے۔اس وقت تمہیں ندامت تو بہت ہو گی لیکن وہ ندامت تمہیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ (1) 
وَیَجْعَلُوۡنَ لِمَا لَا یَعْلَمُوۡنَ نَصِیۡبًا مِّمَّا رَزَقْنٰہُمْ ؕ تَاللہِ لَتُسْـَٔلُنَّ عَمَّا کُنۡتُمْ تَفْتَرُوۡنَ ﴿۵۶﴾ وَ یَجْعَلُوۡنَ لِلہِ الْبَنٰتِ سُبْحٰنَہٗ ۙ وَلَہُمۡ مَّا یَشْتَہُوۡنَ ﴿۵۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور انجانی چیزوں کے لیے ہماری دی ہوئی روزی میں سے حصہ مقرر کرتے ہیں خدا کی قسم تم سے ضرور سوال ہونا ہے جو کچھ جھوٹ باندھتے تھے اور اللّٰہ کے لیے بیٹیاں ٹھہراتے ہیں پاکی ہے اس کو اور اپنے لیے جو اپنا جی چاہتا ہے۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور (کافر) ہماری دی ہوئی روزی میں سے انجانی چیزوں کیلئے حصہ مقرر کرتے ہیں۔اللّٰہ کی قسم! اے لوگو! تم سے اُس کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا جو تم جھوٹ باندھتے تھے۔  اوروہ اللّٰہ کے لیے بیٹیاں قرار دیتے ہیں حالانکہ وہ پاک ہے اور اپنے لیے وہ (مانتے ہیں)جو اپنا جی چاہتا ہے۔
{وَیَجْعَلُوۡنَ لِمَا لَا یَعْلَمُوۡنَ نَصِیۡبًا:اور (کافر) انجانی چیزوں کیلئے حصہ مقرر کرتے ہیں۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ مشرکین کو اللّٰہ تعالیٰ نے جو فصلیں اور مویشی عطا فرمائے وہ اِن میں سے اُن بتوں کے لئے حصہ مقرر کرتے ہیں جنہیں وہ معبود کہتے ہیں اور ان کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ بت نفع اور نقصان پہنچا سکتے ہیں اور وہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میںان کی شفاعت کریں گے حالانکہ بتوں میں یہ اَوصاف موجود ہی نہیں کیونکہ وہ تو پتھر ہیں ،نفع یا نقصان پہنچانے کی قدرت کہاں سے رکھیں گے۔اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی قسم کھاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللّٰہ کی قسم!اے لوگو! تم سے اُس کے بارے 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیر طبری، النحل، تحت الآیۃ: ۵۵، ۷/۵۹۸۔