Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
333 - 601
میں ضرور پوچھا جائے گا جوتم بتوں کو معبود ، تقرب کے لائق اوربت پرستی کو خدا کا حکم بتاکر اللّٰہ تعالیٰ پرجھوٹ باندھتے تھے۔(1) 
{وَ یَجْعَلُوۡنَ لِلہِ الْبَنَاتِ:اوروہ اللّٰہ کے لیے بیٹیاں قرار دیتے ہیں۔} آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ مشرکین اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے لیے توبیٹیاں قرار دیتے ہیں جیسے بنو خزاعہ اور کنانہ کے لوگ فرشتوں کو اللّٰہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہتے تھے حالانکہ اللّٰہ تعالیٰ اولاد سے پاک ہے اور اس کی شان میں ایسا کہنا بہت بے ادبی اور کفر ہے۔ان کافروںمیں کفر کے ساتھ بدتمیزی کی انتہا یہ بھی ہے کہ وہ اپنے لئے توبیٹے پسند کرتے ہیں اور بیٹیاں ناپسند کرتے ہیں جبکہ اللّٰہ تعالیٰ کے لئے جو مُطلقاً اولاد سے مُنَزّہ اور پاک ہے اور اس کے لئے اولاد ثابت کرنا ہی عیب لگانا ہے، اس کے لئے اولاد میں بھی وہ ثابت کرتے ہیں جس کو اپنے لئے حقیر اور عار کا سبب جانتے ہیں۔ (2)
وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُہُمْ بِالۡاُنۡثٰی ظَلَّ وَجْہُہٗ مُسْوَدًّا وَّہُوَ کَظِیۡمٌ ﴿ۚ۵۸﴾ یَتَوَارٰی مِنَ الْقَوْمِ مِنۡ سُوۡٓءِ مَا بُشِّرَ بِہٖ ؕ اَیُمْسِکُہٗ عَلٰی ہُوۡنٍ اَمْ یَدُسُّہٗ فِی التُّرَابِ ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَحْکُمُوۡنَ ﴿۵۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور جب ان میں کسی کو بیٹی ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ غصہ کھاتا ہے لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے اس بشارت کی بُرائی کے سبب کیا اسے ذلّت کے ساتھ رکھے گا یا اسے مٹی میں دبادے گا ارے بہت ہی بُرا حکم لگاتے ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور جب ان میں کسی کو بیٹی ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ غصے سے بھراہوتا ہے۔اس بشارت کی برائی کے سبب لوگوں سے چھپا پھرتا ہے ۔ کیا اسے ذلت کے ساتھ رکھے گا یا اسے مٹی میں دبادے گا ؟ خبردار! یہ کتنا برا فیصلہ کررہے ہیں۔
{وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُہُمْ بِالۡاُنۡثٰی:اور جب ان میں کسی کو بیٹی ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے۔} اس آیت اور اس کے بعد
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…جلالین، النحل، تحت الآیۃ: ۵۶، ص۲۲۰، مدارک، النحل، تحت الآیۃ: ۵۶، ص۵۹۸-۵۹۹، ملتقطاً۔
2…جلالین مع صاوی، النحل، تحت الآیۃ: ۵۷، ۳/۱۰۷۳، ملخصاً۔