Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
331 - 601
دور کر کے انہیں آسانیاں عطا کیں۔ (1)
{لِیَکْفُرُوۡا بِمَاۤ اٰتَیۡنٰہُمْ:تاکہ وہ ہماری دی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کریں ۔} امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں’’اس آیت کا معنی یہ ہے کہ لوگوں نے مصیبت دور کرنے میں بتوں کو اللّٰہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا اور شریک ٹھہرانے سے ان کا مقصود یہ تھا کہ وہ اِن نعمتوں کے اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے کا انکار کر دیں۔ دنیا میں ایسے لوگوں کی کثیر تعداد موجود ہے کہ جب ان کے مرض کی تکلیف بڑھتی ہے تو وہ اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گریہ و زاری کرتے ہیں اور ا س تکلیف کے دور ہونے کی دعائیں مانگتے ہیں اور جب اللّٰہ تعالیٰ ان کی تکلیف دور فرما دے تو وہ یوں کہنے لگتے ہیں کہ فلاں دوائی سے یا فلاں ڈاکٹر کے علاج سے میری یہ تکلیف دور ہوئی، یونہی جب زلزلہ، طوفان یا سیلاب وغیرہ کی مصیبت آتی ہے تو اس وقت بھی اللّٰہ تعالیٰ کے حضور التجائیں کرتے ہیں، روتے اور گڑگڑاتے ہیں لیکن جب زلزلے، طوفان یا سیلاب وغیرہ کا سلسلہ ختم ہو جائے تو دوبارہ انہی کاموں میں مصروف ہو جاتے ہیں جن میں پہلے سے مصروف تھے۔ لوگوں کی اسی حالت کی وضاحت اللّٰہ تعالیٰ نے ان آیات میں فرمائی ہے۔ (2)  اگرچہ طبیب یا دوا کی طرف شفا کی نسبت کرنا گناہ نہیں لیکن صرف انہی پر بھروسہ رکھنا اور شفا و صحت کو اللّٰہ تعالیٰ کی نعمت شمار کرنے اور اس پر شکر ادا کرنے کا اصلاً نہ سوچنا ضرور غلط ہے۔
مَصائب و آلام کے وقت لوگوں کا حال اور بعد کی صورتِ حال:
	امام رازی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے کلام کو سامنے رکھتے ہوئے فی زمانہ بھی اگر لوگوں کے حالات کا جائزہ لیا جائے  تو شاید لاکھوں میں ایک انسان بھی ایسانظر نہ آئے جو بیماری ، تکلیف اور پریشانی کی حالت میں اللّٰہ تعالیٰ سے دعائیں نہ مانگتا ہو، دوسروں کو دعاؤں کے لئے نہ کہتا ہو اور اللّٰہ تعالیٰ کے نیک بندوں سے اپنی مشکلات کے حل کے لئے دعائیں نہ کرواتا ہو، یونہی ایسی حالت میں اپنے گناہوں اور نافرمانیوں سے توبہ نہ کرتا ہو اور آئندہ کے لئے تمام گناہوں سے کنارہ کش ہونے کے ارادے نہ کرتاہو ، لیکن جب یہ مصائب و آلام ختم ہو جاتے ہیں تو اللّٰہ تعالیٰ کا شکر اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرنے کی بجائے اپنی گناہوں کی سابقہ سڑک پر پہلے سے بھی تیز دوڑنا شروع کر دیتے ہیں ،اسی طرح ہمارے مشاہدے میں ہے کہ بہت مرتبہ زلزلے ،طوفان اور سیلاب کی وجہ سے لوگوں کا حال یہ ہوا کہ وہ بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری کرتے ہوئے اپنی عافیت و سلامتی کی دعائیں مانگنے میں مصروف ہو گئے اور وقتی طور پر نماز،روزہ اور ذکر و درو د میں مشغول ہو
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیر طبری، النحل، تحت الآیۃ: ۵۴، ۷/۵۹۸۔
2…تفسیر کبیر، النحل، تحت الآیۃ: ۵۵، ۷/۲۲۲-۲۲۳، ملخصاً۔