Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
330 - 601
{وَمَا بِکُمۡ مِّنۡ نِّعْمَۃٍ:اور تمہارے پاس جو نعمت ہے۔} اس سے پہلی آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ عقلمند پر لازم ہے کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور سے نہ ڈرے جبکہ ان آیات میں بیان فرمایا کہ عقلمند پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کے علاوہ اور کسی کا شکر نہ کرے کیونکہ شکر نعمت کے بدلے میں ہوتا ہے اور انسان کو جو نعمت بھی ملی ہے وہ اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ملی ہے۔ (1) اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے لوگو! تمہارے بدنوں میں جو عافیت، صحت اور سلامتی ہے اور تمہارے مالوں میں جو نَشوونُما ہو رہی ہے ،تمہارے پاس یہ سب نعمتیں اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کسی اور کی طرف سے نہیں کیونکہ ساری نعمتیں اللّٰہ تعالیٰ ہی کے دستِ قدرت میں ہیں اور جب تمہارے بدن کسی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں اور انہیں کوئی عارضہ لاحق ہوتا ہے اور تمہاری عیش و عشرت میں کمی واقع ہوتی ہے تو تم صرف اللّٰہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے ہو اور اسی سے مدد طلب کرتے ہو تاکہ وہ تم سے یہ مصیبت دور کر دے۔ (2)
ثُمَّ اِذَا کَشَفَ الضُّرَّ عَنۡکُمْ اِذَا فَرِیۡقٌ مِّنۡکُمۡ بِرَبِّہِمْ یُشْرِکُوۡنَ ﴿ۙ۵۴﴾ لِیَکْفُرُوۡا بِمَاۤ اٰتَیۡنٰہُمْ ؕ فَتَمَتَّعُوۡا ۟ فَسَوْفَ تَعْلَمُوۡنَ ﴿۵۵﴾
ترجمۂکنزالایمان:پھر جب وہ تم سے برائی ٹال دیتا ہے تو تم میں ایک گروہ اپنے رب کا شریک ٹھہرانے لگتا ہے۔  کہ ہماری دی نعمتوں کی ناشکری کریں تو کچھ برت لو کہ عنقریب جان جاؤ گے۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان:پھر جب وہ تم سے برائی ٹال دیتا ہے تو اس وقت تم میں ایک گروہ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے۔ تاکہ وہ ہماری دی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کریں تو کچھ فائدہ اٹھالو تو عنقریب تم جان جاؤ گے۔ 
{ثُمَّ اِذَا کَشَفَ الضُّرَّ عَنۡکُمْ:پھر جب وہ تم سے برائی ٹال دیتا ہے۔} یعنی پھر جب اللّٰہ تعالیٰ تمہاری بدنی بیماریاں دور کر کے تمہیں عافیت عطا کر دے، تمہاری معاشی پریشانی ختم کر دے اور تم پر آنے والی مصیبتیں ٹال دے تو تم میں سے ایک گروہ اپنی عبادت میں غیروں کواللّٰہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانے لگ جاتا ہے ، بتوں کی عبادت میں مشغول ہونے کے ساتھ بتوں کا شکر اداکرتے ہوئے ان کے نام پر جانور ذبح کرتا ہے اور اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا نہیں کرتا جس نے ان کی مشکلات
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیرکبیر، النحل، تحت الآیۃ: ۵۳، ۷/۲۲۱۔
2…تفسیرطبری، النحل، تحت الآیۃ: ۵۳، ۷/۵۹۷۔