حقیقی خوف صرف اللّٰہ تعالیٰ کا ہونا چاہئے:
اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری کے سلسلے میں دنیا کی نعمتیں ،سہولتیں اور آسائشیں چھن جانے کا خوف نہیں رکھنا چاہئے بلکہ اس معاملے میں صرف اس رب تعالیٰ سے ڈرنا چاہئے جس کے دستِ قدرت میں سب نعمتیں ہیں ور جو تمام نعمتوں کا حقیقی مالک ہے ۔اس میں ان لوگوں کے لئے بڑی نصیحت ہے جو مسلمان ہونے کے باوجود اسلام کے اَحکام پر عمل کرنے میں اپنی دنیوی ترقی نہ ہونے ، معاشی خوشحالی نہ آنے اور نفسانی خواہشات پوری نہ ہونے کاخوف کھاتے ہیں اور وہ ا س بات سے ڈرتے ہیں کہ نمازوں کی پابندی کرنے اور داڑھی رکھنے سے دنیا میں شہرت اور اچھی جگہ نوکری نہ ملے گی اور نہ ہی کوئی مالدار گھرانے والا انہیں رشتہ دینے کو تیار ہو گا، یونہی اگر وہ سودی کاروبار اور رشوت کا لین دین نہ کریں اور کاروبار میں جھوٹ، دھوکہ، ملاوٹ اور خیانت سے کام نہ لیں تو وہ معاشی طور پر انتہائی پَستی کا شکار ہو جائیں گے، اسی طرح اگر وہ نیک صورت مسلمان نظر آئیں گے تو دنیا کی رنگین اور عیش و عشرت سے لبریز پارٹیوں سے لطف اندوز کس طرح ہو ں گے اور عیش و نشاط کے مزے کس طرح لوٹیں گے ۔ اے کاش !یہ لوگ ان چیزوں سے خوف کھانے اور ڈرنے کی بجائے اللّٰہ تعالیٰ کا خوف رکھتے ، اسی سے ڈرتے اور اسی کی اطاعت و فرمانبرداری میں اپنی انتہائی قلیل دنیوی زندگی بسر کرنے کو ترجیح دیتے تو آخرت میں ایسی عظیم اور دائمی نعمتیں پاتے جن کے آگے دنیا کی اعلیٰ سے اعلیٰ ترین نعمتوں کی ذرہ بھر بھی حیثیت اور وقعت نہیں ہے۔ (1)
وَمَا بِکُمۡ مِّنۡ نِّعْمَۃٍ فَمِنَ اللہِ ثُمَّ اِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُّ فَاِلَیۡہِ تَجْـَٔرُوۡنَ ﴿ۚ۵۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور تمہارے پاس جو نعمت ہے سب اللّٰہ کی طرف سے ہے پھر جب تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کی طرف پناہ لے جاتے ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تمہارے پاس جو نعمت ہے سب اللّٰہ کی طرف سے ہے پھر جب تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو تم اسی سے فریادکرتے ہو۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کا خوف رکھنے سے متعلق مزید ترغیب پانے کے لئے کتاب’’خوفِ خدا‘‘ (مطبوعہ مکتبہ المدینہ) کا مطالعہ بہت مفید ہے۔