Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
319 - 601
غَیْرِ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْن (یعنی مومنوں کے راستے کے علاوہ کی پیروی کرنے والے) ہیں۔(1)
 	نوٹ: تقلید سے متعلق تفصیلی معلومات کے لئے کتاب ’’جاء الحق ‘‘ کا مطالعہ فرمائیں۔
مُقَلِّد کا ایمان درست ہے یا نہیں؟
	جو شخص تقلید کے طور ایمان لایا اس کا ایمان صحیح ہونے کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے، بعض کے نزدیک تقلیدی ایمان درست نہیں ، بعض کے نزدیک تقلیدی ایمان درست ہے لیکن وہ غورو فکر اور اِستدلال ترک کرنے کی وجہ سے گناہگار ہو گا، اور بعض کے نزدیک تقلیدی ایمان درست ہے اور ایسے ایمان لانے والا گناہگار بھی نہیں ہو گا۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ان علماء کے اَقوال ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں ’’بے شک ایمان نور کی ایک تجلی ہے اور وہ (جہالت کا ) پردہ  اٹھانا اور سینہ کھولنا ہے ، اللّٰہ تعالیٰ وہ نور اپنے بندوں میں سے جس کے دل میں چاہے ڈالتا ہے خواہ یہ نور کا داخل ہونا غورو فکر سے ہو یا محض کسی کی بات سننے سے حاصل ہو، اور کسی عقلمند کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ کہے :ایمان نظر و استدلال کے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔‘‘ ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا بلکہ خدا کی قسم! بسا اوقات اس شخص کا ایمان جو استدلال کا طریقہ نہیں جانتا اُس سے کامل تر اور مضبوط تر ہوتا ہے جو بحث و مناظرے میں آخری حد تک پہنچا ہوا ہو، تو جس کا سینہ اللّٰہ تعالیٰ اسلام کے لئے کھول دے اور وہ اپنے دل کو ایمان پر مطمئن پائے تو وہ قطعی طور پر مومن ہے اگرچہ وہ نہ جانتا ہو کہ اسے یہ عظیم نعمت کہاں سے ملی ہے، اور آئمہ اربعہ وغیرہ محققین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اَجْمَعِیْن نے جو فرمایا کہ ’’مقلد کا ایمان صحیح ہے‘‘ اس کا یہی معنی ہے ،مقلد سے ان کی مراد وہ شخص ہے جو استدلال کرنا، بحث کے اسلوب اور گفتگو کے مختلف طریقے نہ جانتا ہو، رہا وہ شخص جس نے اپنے سینے کو اس یقین کے ساتھ اپنی طرف سے کشادہ نہ کیا تو اس نے ویسے ہی کہا جیسے منافق اپنی قبر میں کہتا ہے :ہائے ہائے! مجھے نہیں معلوم ،میں لوگوں کو کچھ کہتے سنتا تھا تو ان سے سن کر میں بھی کہا کرتا تھا۔ خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص اللّٰہ تعالیٰ کے ایک ہونے کی تصدیق اس لئے کرے کہ مثلاً اس کا باپ اس بات کی تصدیق کرتا تھا اور وہ اپنے دل سے اللّٰہ تعالیٰ کے ایک ہونے پر یقین رکھتے ہوئے تصدیق نہ کرے تو ایسے شخص کا ایمان سے کوئی تعلق نہیں اور تقلیدی ایمان کی نفی کرنے والوں کی بھی یہی مراد ہے ۔ (2)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…فتاویٰ رضویہ، ۲۷/۶۴۴۔
2…المعتمد المستند شرح المعتقد المنتقد، الخاتمۃ فی بحث الایمان، ص۱۹۹-۲۰۰۔