Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
318 - 601
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’عالم کے لئے مناسب نہیں کہ وہ اپنے علم پر خاموش رہے اور جاہل کے لئے مناسب نہیں کہ وہ اپنی جہالت پر خاموش رہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا’’فَسْـَٔلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکْرِ اِنۡ کُنۡتُمْ لَا تَعْلَمُوۡنَ‘‘ (یعنی اے لوگو! اگر تم نہیں جانتے تو علم والوں سے پوچھو۔) لہٰذا مومن کو دیکھ لینا چاہئے کہ اس کا عمل ہدایت کے مطابق ہے یا اس کے خلاف ہے۔ (1) 
تقلید جائز ہے:
	یاد رہے کہ یہ آیتِ کریمہ تقلید کے جواز بلکہ حکم پر بھی دلالت کرتی ہے جیساکہ امام جلال الدین سیوطی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اپنی کتاب ’’اَلْاِکْلِیْلْ‘‘ میں فرماتے ہیں’’ اس آیت سے علماء نے فروعی مسائل میں عام آدمی کے لئے تقلید کے جواز پر استدلال فرمایا ہے ۔ (2)بلکہ آیت فَسْـَٔلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکْرِ تقلید واجب ہونے کی صریح دلیل ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس آیت میں ’’اَہْلَ الذِّکْرِ‘‘ سے مسلمان علماء نہیں بلکہ اہل کتاب کے علماء مراد ہیں لہٰذا اس آیت کا تقلید کی بحث سے کوئی تعلق نہیں، ان کا یہ کہنا نری جہالت ہے کیونکہ یہ اس قانون کے خلاف ہے کہ اعتبار لفظ کے عموم کا ہوتا ہے نہ کہ مخصوص سبب کا۔(3) 
تقلید کی تعریف:
	 تقلید کے شرعی معنی یہ ہیں کہ کسی کے قول اور فعل کو یہ سمجھ کر اپنے اوپر لازمِ شرعی جاننا کہ اس کا کلام اور ا س کا کام ہمارے لئے حجت ہے کیونکہ یہ شرعی محقق ہے۔
 تقلید سے متعلق چند اہم مسائل: 
(1)…عقائد اور صریح اسلامی احکام میں کسی کی تقلید جائز نہیں ۔
(2)…جو مسائل قرآن و حدیث یا اِجماعِ امت سے اِجتہاد اور اِستنباط کر کے نکالے جائیں ان میں غیر مُجتَہد پر چاروں آئمہ میں سے کسی ایک کی تقلید کرنا واجب ہے۔
(3)…اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’مذاہبِ اربعۂ اہلسنت سب رشد و ہدایت ہیں جو ان میں سے جس کی پیروی کرے اور عمر بھر اسی کا پیرورہے ،کبھی کسی مسئلے میں اس کے خلاف نہ چلے وہ ضرور صراطِ مستقیم پر ہے اس پر شرعاً کوئی الزام نہیں، ان میں سے ہر مذہب انسان کیلئے نجات کو کافی ہے۔ تقلید ِشخصی کو شرک یا حرام ماننے والے گمراہ، ضالین، مُتَّبِعْ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…در منثور، النحل، تحت الآیۃ: ۴۳، ۵/۱۳۳۔
2…الاکلیل، سورۃ النحل، ص۱۶۳۔
3…فتاویٰ رضویہ، ۲۱/۵۸۲۔