بِالْبَیِّنٰتِ وَالزُّبُرِ ؕ وَ اَنۡزَلْنَاۤ اِلَیۡکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیۡہِمْ وَلَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۴۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: روشن دلیلیں اور کتابیں لے کر اور اے محبوب ہم نے تمہاری طرف یہ یاد گار اتاری کہ تم لوگوں سے بیان کردو جو ان کی طرف اترا اور کہیں وہ دھیان کریں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:(ہم نے) روشن دلیلوں اور کتابوں کے ساتھ (رسولوں کو بھیجا) اور اے حبیب! ہم نے تمہاری طرف یہ قرآن نازل فرمایا تاکہ تم لوگوں سے وہ بیان کردو جو اُن کی طرف نازل کیا گیا ہے اورتاکہ وہ غوروفکر کریں۔
{وَ اَنۡزَلْنَاۤ اِلَیۡکَ الذِّکْرَ:اور اے حبیب! ہم نے تمہاری طرف یہ قرآن نازل فرمایا۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہم نے آپ کی طرف یہ قرآن اس لئے نازل فرمایا تاکہ آپ اس کتاب میں موجود اَحکام ،وعدہ اور وعید کو اپنے اَقوال اور اَفعال کے ذریعے لوگوں سے بیان کر دیں۔ (1)
حدیث پاک بھی حجت ہے:
ابو عبداللّٰہ محمد بن احمد قرطبی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اپنی تفسیر ’’اَلْجَامِعُ لِاَحْکَامِ الْقُرْآنْ‘‘ کی ابتدا میں فرماتے ہیں ’’اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں موجود مُجمل چیزوں کو بیان کرنے، مشکل کی تفسیر کرنے اور کئی اِحتمال رکھنے والی چیزوں کی تحقیق کرنے کا منصب اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو عطا فرمایا تاکہ رسالت کی تبلیغ کے ساتھ آپ کی یہ خصوصیت بھی ظاہر ہو جائے اور سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰیَ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بعد قرآنِ پاک کے معانی کو اَخذ کرنے اور قرآنِ پاک کے اصول کی طرف اشارہ کرنے کی خدمت علماء کے سپرد فرمائی تاکہ وہ قرآنِ پاک کے الفاظ میں غورو فکرکر کے ان کی مراد جان جائیں ،یوں علماء دیگر امتیوں سے ممتاز ہو گئے اور اِجتہاد کا ثواب ملنے کی خصوصیت بھی انہیں حاصل ہوئی، خلاصہ یہ ہے کہ قرآنِ پاک اصل ہے اور حدیثِ پاک اس کا بیان ہے اور علماء کا اِستنباط ا س کی وضاحت ہے۔ (2)اس آیتِ کریمہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…قرطبی، النحل، تحت الآیۃ: ۴۴، ۵/۷۹، الجزء العاشر۔
2…قرطبی، خطبۃ المصنّف، ۱/۲۴، الجزء الاوّل ۔