ترجمۂکنزالایمان: اور ہم نے تم سے پہلے نہ بھیجے مگر مرد جن کی طرف ہم وحی کرتے تو اے لوگوعلم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی بھیجے جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے اے لوگو!اگر تم نہیں جانتے تو علم والوں سے پوچھو ۔
{وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنۡ قَبْلِکَ اِلَّا رِجَالًا:اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی بھیجے ۔} شانِ نزول : یہ آیت مشرکینِ مکہ کے جواب میں نازل ہوئی جنہوں نے سیّد المرسَلینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی نبوت کا یہ دلیل دے کر انکار کیا کہ اللّٰہ تعالیٰ کی شان اس سے برتر ہے کہ وہ کسی بشر کو رسول بنائے۔ اُنہیں بتایا گیا کہ سنتِ الٰہی اسی طرح جاری ہے، ہمیشہ اس نے انسانوں میں سے مردوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا ہے۔ (1)
{فَسْـَٔلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکْرِ:اے لوگو! علم والوں سے پوچھو ۔} اس آیت میں علم والوں سے مراد اہلِ کتاب ہیں، اللّٰہ تعالیٰ نے کفار ِمکہ کو اہلِ کتاب سے دریافت کرنے کا حکم اس لئے دیا کہ کفارِ مکہ اس بات کو تسلیم کرتے تھے کہ اہلِ کتاب کے پاس سابقہ کتابوں کا علم ہے اور ان کی طرف اللّٰہ تعالیٰ نے رسول بھیجے تھے ، جیسے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وغیرہ، اور وہ ان کی طرح بشر تھے تو جب کفار ِمکہ اہلِ کتاب سے پوچھتے تو وہ انہیں بتا دیتے کہ جو رسول ان کی طرف بھیجے گئے وہ سب بشر ہی تھے، اس طرح ان کے دلوں سے یہ شبہ زائل ہو جاتا۔ (2)
جو مسئلہ معلوم نہ ہو وہ علماءِ کرام سے پوچھا جائے:
اس آیت کے الفاظ کے عموم سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس مسئلے کا علم نہ ہو اس کے بارے میں علماء کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے۔ حضرت جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے (ایک شخص کی وفات کا سبب سن کر)ارشاد فرمایا ’’ جب (رخصت کے بارے) انہیں معلوم نہ تھا تو انہوں نے پوچھا کیوں نہیںکیونکہ جہالت کی بیماری کی شفاء دریافت کرنا ہے۔ (3)اور حضرت جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ہی روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۴۳، ۳/۱۲۳-۱۲۴۔
2…خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۴۳، ۳/۱۲۴۔
3…ابوداؤد، کتاب الطہارۃ، باب فی المجروح یتیمّم، ۱/۱۵۴، الحدیث: ۳۳۶ ۔