Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
315 - 601
گا۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں اپنی رضا حاصل کرنے کی نیت سے نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمین
{لَـنُبَوِّئَنَّہُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً:ہم ضرور انہیں دنیا میں اچھی جگہ دیں گے۔} اچھی جگہ سے مراد  مدینہ طیبہ ہے جسے اللّٰہ تعالیٰ نے ان کے لئے ہجرت کی جگہ بنایا۔ مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ جب اپنے زمانۂ خلافت میں کسی مہاجر صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکو کوئی چیز بطورِ عطیہ و نذرانہ کے دیتے تو ا س سے فرماتے ’’اللّٰہ تعالیٰ تمہارے لئے اس میں برکت دے، اسے لے لوکیونکہ یہ وہ ہے جس کا دنیا میں اللّٰہ تعالیٰ نے آپ سے وعدہ کیا ہے اور آخرت میں جو آپ کے لئے تیار کر رکھا ہے وہ ا س سے کہیں بہتر ہے۔ اس کے بعد حضرت عمر فاروق  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ یہی آیت تلاوت فرماتے۔ (1)
مدینہ منورہ کی فضیلت:
	اس آیت سے مدینہ منورہ کی فضیلت بھی معلوم ہوئی کہ یہاں اسے حَسَنَۃً  فرمایا گیاہے۔ صحیح مسلم میں حضرت سعد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا ’’مدینہ لوگوں کے لیے بہتر ہے اگر جانتے، مدینہ کو جو شخص بطورِ اِعراض چھوڑے گا، اللّٰہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اُسے لائے گا جو اس سے بہتر ہوگا اور مدینہ کی تکلیف و مشقت پر جو ثابت قدم رہے گا روزِ قیامت میں اس کا شفیع یا گواہ ہوں گا۔ (2)
{لَوْکَانُوۡا یَعْلَمُوۡنَ:اگر لوگ جانتے۔} اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ اگر کافر یہ بات جانتے کہ آخرت کا ثواب ان کی پسندیدہ دنیا کی تمام نعمتوں سے زیادہ بڑا ہے تو وہ اس کی طرف راغب ہوتے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ اگر مہاجرین کو معلوم ہو جائے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ان کے لئے آخرت میں کتنی بڑی نعمتیں تیار کی ہیں تو جو مصیبتیں اور تکلیفیں انہیں پہنچیں، ان پر صبر کرنے کی اور زیادہ کوشش کرتے۔ (3)تیسرا معنی یہ ہے کہ جو  لوگ ہجرت کرنے سے رہ گئے وہ اگر جانتے کہ ہجرت کا اجر کتنا عظیم ہے تووہ بھی ہجرت کرنے والوں کے ساتھ ہوتے۔ (4)
الَّذِیۡنَ صَبَرُوۡا وَعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوۡنَ ﴿۴۲﴾
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۴۱، ۳/۱۲۳۔
2…مسلم، کتاب الحج، باب فضل المدینۃ ودعاء النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فیہا بالبرکۃ۔۔۔ الخ، ص۷۰۹، الحدیث: ۴۵۹ (۱۳۶۳)۔
3…خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۴۱، ۳/۱۲۳۔
4…جلالین، النحل، تحت الآیۃ: ۴۱، ص۲۱۹۔