کے دن مہاجرین جنت کے دروازے کے پاس آ کر اسے کھلوانا چاہیں گے تو جنت کے خازن ان سے کہیں گے: کیا آپ سے حساب لے لیا گیا ہے؟ وہ کہیں گے :ہم سے کس چیز کا حساب لیا جائے گا حالانکہ اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں ہماری تلواریں ہمارے کندھوں پر تھیں حتّٰی کہ اسی حال میں ہمارا انتقال ہو گیا۔ حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں کہ ’’ان کے لئے (جنت کا دروازہ )کھول دیاجائے گا تو وہ دوسرے لوگوں کے جنت میں داخل ہونے سے پہلے 40 سال تک جنت میں قیلولہ کریں گے۔ (1)
حضرت عبداللّٰہ بن عمرو رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں:ہم ایک دوسرے دن تاجدارِ رسالتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں اس وقت حاضر تھے جب سورج طلوع ہوا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’عنقریب قیامت کے دن کچھ لوگ آئیں گے جن کا نور سورج کی روشنی کی طرح ہو گا۔ ہم نے عرض کیـ: یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، وہ کون لوگ ہوں گے؟ ارشاد فرمایا ’’فُقراء مہاجرین جن کے صدقے ناپسندیدہ چیزوں سے بچا جاتا ہے، ان میں سے کسی کا انتقال اس حال میں ہوتا ہے کہ اس کی حاجت اس کے سینے میں ہی رہتی ہے(یعنی پوری نہیں ہوتی اور حاجت مند ہی فوت ہوجاتا ہے)، وہ زمین کے کناروں سے جمع کئے جائیں گے۔ (2)
رضاءِ الٰہی کی نیت کے بغیر نیک عمل کرنے کی فضیلت نہیں ملتی:
اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو ہجرت صرف اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر نہ ہو اس کی کوئی فضیلت نہیں، وہ ایسے ہے جیسے ایک گھر سے دوسرے گھر کی طرف منتقل ہونا۔ صحیح بخاری شریف میں حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ اَعمال نیت سے ہیں اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جو اس نے نیت کی تو جس کی ہجرت اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور ا س کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی طرف ہو تو اس کی ہجرت اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی طرف ہے اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہو تواس کی ہجرت اسی طرف ہے جس کی جانب اس نے ہجرت کی ۔ (3)اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہر وہ نیک عمل جس میں اللّٰہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی نیت نہ ہو تو اس نیک عمل کو کرنے والا اس کی فضیلت پانے سے محروم رہے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مستدرک، کتاب الجہاد، اوّل زمرۃ تدخل الجنّۃ المہاجرون، ۲/۳۸۷، الحدیث: ۲۴۳۶۔
2…مسند امام احمد، مسند عبد اللّٰہ بن عمرو بن العاص رضی اللّٰہ تعالی عنہما، ۲/۵۹۱، الحدیث: ۶۶۶۲۔
3…بخاری، کتاب الایمان، باب ما جاء انّ الاعمال بالنیۃ۔۔۔ الخ، ۱/۳۴، الحدیث: ۵۴۔