Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
307 - 601
ان کی روحیں قبض کرنے آجائیں یا تمہارے ربعَزَّوَجَلَّ کا دنیا میں یاروزِ قیامت والے عذاب کاحکم آجائے ۔ ان سے پہلی امتوں کے کفار نے بھی ایسے ہی کیا تھا  ،انہوں نے اپنے رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا تو وہ ہلاک کر دئیے گئے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے انہیں عذاب میں مبتلا کر کے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ یہ خود ہی کفر اختیار کرکے اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔(1) 
{فَاَصَابَہُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوۡا:تو ان کے اعمال کی برائیاں ان پر آ پڑیں۔} یعنی انہوں نے اپنے خبیث اعمال کی سزا پائی اور جس عذاب کا یہ مذاق اڑاتے تھے وہ ان پر نازل ہو گیا۔ (2)
وَقَالَ الَّذِیۡنَ اَشْرَکُوۡا لَوْ شَآءَ اللہُ مَا عَبَدْنَا مِنۡ دُوۡنِہٖ مِنۡ شَیۡءٍ نَّحْنُ وَلَاۤ اٰبَآؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِنۡ دُوۡنِہٖ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ کَذٰلِکَ فَعَلَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبْلِہِمْ ۚ فَہَلْ عَلَی الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیۡنُ ﴿۳۵﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور مشرک بولے اللّٰہ چاہتا تو اس کے سوا کچھ نہ پوجتے نہ ہم اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ اس سے جدا ہو کر ہم کوئی چیز حرام ٹھہراتے ایسا ہی ان سے اگلوں نے کیا تو رسولوں پر کیا ہے مگر صاف    پہونچا دینا۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور مشرک کہنے لگے: اگر اللّٰہ چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ دادا اللّٰہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرتے اور نہ اس کے (حکم کے) بغیر ہم کسی چیز کو حرام قرار دیتے۔ ان سے پہلے لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا تھا تو رسولوں پر تو صاف صاف تبلیغ کردینا ہی لازم ہے۔
{وَقَالَ الَّذِیۡنَ اَشْرَکُوۡا:اور مشرک کہنے لگے۔} مکہ کے مشرکین مذاق کے طور پرسیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے یہ کہتے تھے کہ’’اگر اللّٰہ تعالیٰ چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ دادا اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرتے اور نہ اس کے حکم کے بغیر ہم بحیرہ و سائبہ (جانور)  وغیرہکسی چیز کو حرام قرار دیتے۔ اس سے اُن کی مراد یہ تھی کہ اُن کا شرک کرنا اور اُن
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۳۳، ۳/۱۲۱، جلالین، النحل، تحت الآیۃ: ۳۳، ص۲۱۸، ملتقطاً۔
2…خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۳۴، ۳/۱۲۱۔