Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
308 - 601
چیزوں کو حرام قرار دے لینا اللّٰہ تعالیٰ کی مشیت اور مرضی سے ہے، اس پر اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا کہ’’ان سے پہلے لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا تھا کہ اپنے رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی تکذیب کی ، حلال کو حرام کیا اور ایسی ہی مذاق اڑانے والی باتیں کہیں ، رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر تو صاف صاف تبلیغ کردینا یعنی حق کو ظاہر کردینا اور شرک کے باطل اور قبیح ہونے پر مطلع کردینا ہی لازم ہے ہدایت دینا ان پر لازم نہیں۔ (1)
اللّٰہ تعالیٰ کی مَشِیَّت کو دلیل بنانا اور اس کے حکم کی پرواہ نہ کرنا جہالت ہے:
	 اِس آیت میں اور اِس سے اگلی آیت میں کفار کی اس جہالت کو بھی بے نقاب کیا گیا ہے کہ مَشِیَّت ِ الٰہی کو تو کفار اپنی حرکتوں کی دلیل بنارہے ہیں لیکن حکمِ الٰہی کی ان کو کوئی پرواہ نہیں۔ ہمارے زمانے میں بعض مسلمان بھی اپنے برے افعال کی یہی دلیل دیتے ہیں کہ اگر اللّٰہ تعالیٰ نہ چاہتا تو میں یہ گناہ، فلاں جرم اور وہ مَعصِیَت نہ کرتا، اگر میں نے ایسا کیا ہے تو اس میں میرا قصور ہی کیا ہے،یہ لوگ خود ہی غور کر لیں کہ ان کا طرزِ عمل کن سے مل رہا ہے؟
وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِیۡ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوۡلًا اَنِ اعْبُدُوا اللہَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوۡتَ ۚ فَمِنْہُمۡ مَّنْ ہَدَی اللہُ وَ مِنْہُمۡ مَّنْ حَقَّتْ عَلَیۡہِ الضَّلٰلَۃُ ؕ فَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرْضِ فَانۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۳۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک ہر امت میں سے ہم نے ایک رسول بھیجا کہ اللّٰہ کو پوجو اور شیطان سے بچو تو ان میں کسی کو اللّٰہ نے راہ دکھائی اور کسی پر گمراہی ٹھیک اتری تو زمین میں چل پھر کر دیکھو کیسا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک ہر امت میں ہم نے ایک رسول بھیجا کہ (اے لوگو!) اللّٰہ کی عبادت کرو اور شیطان سے بچو تو ان میں کسی کو اللّٰہ نے ہدایت دیدی اور کسی پر گمراہی ثابت ہوگئی تو تم زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…جلالین، النحل، تحت الآیۃ: ۳۵، ص۲۱۸، مدارک، النحل، تحت الآیۃ: ۳۵، ص۵۹۵، ملتقطاً۔