Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
306 - 601
 روح نکلتے وقت  اُن سے کہا جائے گا کہ تم اپنے اعمال کے بدلے میں جنت میں داخل ہوجاؤ۔ (1)
	نوٹ:یاد رہے کہ اس آیت اور اس جیسی وہ تمام آیات جن میں اعمال کی وجہ سے جنت میں داخل ہونے کا ذکر ہے ان کا معنی یہ ہے کہ اخلاص کے ساتھ کئے ہوئے نیک اعمال کی وجہ سے بندہ ا س وقت جنت میں جائے گا جب اللّٰہ تعالیٰ اپنی رحمت اور فضل سے ان اعمال کو قبول فرمائے گا محض نیک عمل کر لینے سے کوئی جنت میں داخل نہ ہو گا (کیونکہ جنت میں داخلے کا سبب ِحقیقی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کا فضل ہے۔) (2)
ہَلْ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِیَہُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ اَوْ یَاۡتِیَ اَمْرُ رَبِّکَ ؕ کَذٰلِکَ فَعَلَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبْلِہِمْ ؕ وَمَا ظَلَمَہُمُ اللہُ وَلٰکِنۡ کَانُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ یَظْلِمُوۡنَ ﴿۳۳﴾ فَاَصَابَہُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوۡا وَحَاقَ بِہِمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسْتَہۡزِءُوۡنَ ﴿٪۳۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: کاہے کے انتظار میں ہیں مگر اس کے کہ فرشتے ان پر آئیں یا تمہارے رب کا عذاب آئے ان سے اگلوں نے بھی ایسا ہی کیا اور اللّٰہ نے ان پر کچھ ظلم نہ کیا ہاں وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔  تو ان کی بری کمائیاں ان پر پڑیں اور انہیں گھیرلیا اس نے جس پر ہنستے تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یہ کافراس بات کا انتظار کررہے ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آجائیں یا تمہارے رب کا عذاب آجائے۔ ان سے پہلے لوگوں نے بھی ایسے ہی کیا تھا اور اللّٰہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا لیکن یہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔ تو ان کے اعمال کی برائیاں ان پر آ پڑیں اور جس عذاب کا یہ مذاق اڑاتے تھے اس نے انہیں گھیرلیا۔
{ہَلْ یَنۡظُرُوۡنَ:یہ کس چیز کا انتظار کررہے ہیں۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جن لوگوں نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ شرک کیا اور آپ کی نبوت کو ماننے سے انکار کر دیا،یہ اس بات کا انتظار کررہے ہیں کہ ان کے پاس فرشتے 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مدارک، النحل، تحت الآیۃ: ۳۲، ص۵۹۴، صاوی، النحل، تحت الآیۃ: ۳۲، ۳/۱۰۶۵، ملتقطاً۔
2…خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۳۲، ۳/۱۲۱۔