Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
305 - 601
الَّذِیۡنَ تَتَوَفّٰىہُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ طَیِّبِیۡنَ ۙ یَقُوۡلُوۡنَ سَلٰمٌ عَلَیۡکُمُ ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّۃَ بِمَا کُنۡتُمْ تَعْمَلُوۡنَ ﴿۳۲﴾
ترجمۂکنزالایمان:وہ جن کی جان نکالتے ہیں فرشتے ستھرے پن میںیہ کہتے ہوئے کہ سلامتی ہو تم پر جنت میں جاؤ  بدلہ اپنے کیے کا۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: فرشتے ان کی جان پاکیزگی کی حالت میں نکالتے ہوئے کہتے ہیں: تم پر سلامتی ہو،تم اپنے اعمال کے بدلے میں جنت میں داخل ہوجاؤ۔
{اَلَّذِیۡنَ تَتَوَفّٰىہُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ:وہ جن کی فرشتے جان نکالتے ہیں۔} اس آیت میں پرہیز گاروں کا وصف بیان کرتے ہوئے اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ فرشتے ان کی جان پاکیزگی کی حالت میں نکالتے ہیں کہ وہ  شرک اور کفر سے پاک ہوتے ہیں اور ان کے اقوال ، افعال ،اخلاق اور خصلتیں پاکیزہ ہوتی ہیں ،نیکیاں ان کے ساتھ ہوتی ہیں، حرام اور ممنوع اَفعال کے داغوں سے ان کادامنِ عمل میلا نہیں ہوتا، روح قبض ہونے کے وقت اُن کو جنت و رِضوان اوررحمت و کرامت کی بشارتیں دی جاتی ہیں، اس حالت میں موت انہیں خوشگوار معلوم ہوتی ہے، جان فرحت و سُرور کے ساتھ جسم سے نکلتی ہے اور ملائکہ عزت کے ساتھ اس کو قبض کرتے ہیں۔ (1)
{یَقُوۡلُوۡنَ سَلٰمٌ عَلَیۡکُمُ:کہتے ہیں: تم پر سلامتی ہو۔} حضرت محمد بن کعب قُرَظی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں’’ جب مومن بندے کی موت کا وقت قریب آتا ہے تو اس کے پاس فرشتہ آکر کہتا ہے’’ اے اللّٰہ کے دوست! تجھ پر سلام اور اللّٰہ تعالیٰ تجھے سلام فرماتا ہے۔ (2)
{اُدْخُلُوا الْجَنَّۃَ بِمَا کُنۡتُمْ تَعْمَلُوۡنَ:تم اپنے اعمال کے بدلے میں جنت میں داخل ہوجاؤ۔} یعنی  آخرت میں یا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۳۲، ۳/۱۲۰-۱۲۱، ملخصاً۔
2…شعب الایمان، التاسع من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فصل فی عذاب القبر، ۱/۳۶۱، روایت نمبر: ۴۰۲۔