Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
296 - 601
دعوت قبول کی ہے اس لئے اب تم میری دعوت قبول کرو، چنانچہ وہ تمام مسکین امام حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ساتھ ان کے درِ دولت پر گئے ،امام حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے انہیں کھانا کھلایا ، پانی پلایا اور انہیں کچھ عطا فرمایا، فراغت کے بعد وہ سب وہاں سے چلے گئے (1)۔ (2)
وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمۡ مَّاذَاۤ اَنۡزَلَ رَبُّکُمْ ۙ قَالُوۡۤا اَسٰطِیۡرُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿ۙ۲۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور جب ان سے کہا جائے تمہارے رب نے کیا اتارا کہیں اگلوں کی کہانیاں ہیں۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب ان سے کہا جائے: تمہارے رب نے کیا نازل فرمایا؟ تو کہتے ہیں: پہلے لوگوں کی داستانیں ہیں۔ 
{وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمۡ:اور جب ان سے کہا جائے۔}  اس سے پہلی آیات میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت پر اور بتوں کی پوجا کرنے والوں کے رد میں دلائلِ قاہرہ بیان فرمائے جبکہ ان آیات میں سیّد المرسَلینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت کا انکار کرنے والوں کے شبہات اور ان کے جوابات بیان فرمائے ہیں۔ (3) شانِ نزول: یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی، اس نے بہت سی کہانیاں یاد کرلی تھیں، اس سے جب کوئی قرآنِ کریم کی نسبت دریافت کرتا تو وہ یہ جاننے کے باوجود کہ قرآن شریف عاجز کر دینے والی کتاب اور حق و ہدایت سے بھری ہوئی ہے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے یہ کہہ دیتا کہ یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں، ایسی کہانیاں مجھے بھی بہت یاد ہیں۔ (4)بعض مفسرین فرماتے ہیں ’’یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے مکہ مکرمہ کے داخلی راستوں کو باہم تقسیم کر لیا تھا ،یہ لوگ حج کے لئے آنے والوں کو سیّد المرسَلینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے مُتَنفر کرنے کی کوشش کرتے اور جب کوئی شخص ان سے دریافت کرتا کہ تمہارے رب نے محمد مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپر کیا نازل فرمایا ہے تو وہ کہتے ’’ پہلے لوگوں کے جھوٹے افسانے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…صاوی، النحل، تحت الآیۃ: ۲۳، ۳/۱۰۶۱۔
2…تکبر اور عاجزی سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے لئے کتاب ’’احیاء العلوم (مترجم)‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ ) جلد تین سے تکبر کا بیان ،اور کتاب ’’تکبر‘‘ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)کا مطالعہ بہت مفید ہے۔
3…تفسیرکبیر، النحل، تحت الآیۃ: ۲۴،۷/۱۹۷۔
4…خزائن العرفان، النحل، تحت الآیۃ: ۲۴، ص۵۰۳، ملخصاً۔