Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
295 - 601
	حضرت محمد بن واسع رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :میں حضرت بلال بن ابو بردہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس گیا اور ان سے کہا :اے بلا ل ! آپ کے والد نے مجھ سے ایک حدیث بیان کی ہے وہ اپنے والد (حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ) سے اور وہ نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے روایت کرتے ہیں، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ بے شک جہنم میں ایک وادی ہے جسے ہبہب کہتے ہیں، اللّٰہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ وہ اس میں تمام تکبر کرنے والوں کو ٹھہرائے گا۔‘‘ اے بلال! تم اس میں ٹھہرنے والوں میں سے نہ ہونا۔ (1)
تکبر کے دو علاج:
	تکبر کے برے انجام سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کتنا خطرناک باطنی مرض ہے ،اس لئے جو اپنے اندر تکبر کا مرض پائے اسے چاہئے کہ وہ اس کا علاج کرنے کی خوب کوشش کرے ،اَحادیث میں تکبر کے جو علاج بیان کئے گئے ان میں سے دو علاج درج ذیل ہیں۔
(1)…اپنے کام خود کرنا: چنانچہ حضرت ابو امامہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے اپنا سامان خود اٹھایا وہ تکبر سے بری ہو گیا۔ (2)
(2)…عاجزی اختیار کرنا اور مسکین کے ساتھ بیٹھنا: چنانچہ حضرت عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے، رسولِ کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’عاجزی اختیار کرو اور مسکینوں کے ساتھ بیٹھا کرو، اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمہارا مرتبہ بلند ہو جائے گا اور تکبر سے بھی بری ہو جاؤ گے۔  (3)
امام حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکی عاجزی:
	ایک مرتبہ امام حسینرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا گزر چند مسکینوں کے پاس سے ہوا، وہ لوگ کچھ  کھا رہے تھے ، انہوں نے حضرت امام حسینرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو دیکھ کر کہا ’’اے ابو عبداللّٰہ ! آپ بھی یہ غذا کھا لیجئے۔ امام حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنی سواری سے اتر کر ان کے ساتھ بیٹھ گئے اور فرمایا ’’اِنَّہٗ لَایُحِبُّ الْمُسْتَکْبِرِیۡنَ‘‘ یعنی بیشک اللّٰہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا۔ پھران کے ساتھ کھانا شروع کر دیا، جب کھانے سے فارغ ہوئے تو ان مسکینوں سے فرمایا ’’میں نے تمہاری
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مسند ابو یعلی، حدیث ابی موسی الاشعری، ۶/۲۰۷، الحدیث: ۷۲۱۳۔
2…شعب الایمان، السابع والخمسون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فصل فی التواضع، ۶/۲۹۲، الحدیث: ۸۲۰۱۔
3…کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، ۲/۴۹، الحدیث: ۵۷۲۲، الجزء الثالث۔