Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
297 - 601
ہیں کوئی ماننے کی بات نہیں۔ جبکہ صحابۂ کرام  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے جب ان کی ملاقات ہوتی تو وہ انہیں تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی صداقت اور نبوت کے بارے میں بتاتے تھے۔ (1)
لِیَحْمِلُوۡۤا اَوْزَارَہُمْ کَامِلَۃً یَّوْمَ الْقِیٰمَۃِ ۙ وَ مِنْ اَوْزَارِ الَّذِیۡنَ یُضِلُّوۡنَہُمۡ بِغَیۡرِ عِلْمٍ ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوۡنَ ﴿٪۲۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: کہ قیامت کے دن اپنے بوجھ پورے اٹھائیں اور کچھ بوجھ ان کے جنہیں اپنی جہالت سے گمراہ کرتے ہیں سن لو کیا ہی برا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس لئے کہ قیامت کے دن اپنے پورے بوجھ اور کچھ ان لوگوں کے گناہوں کے بوجھ اٹھائیں جنہیں اپنی جہالت سے گمراہ کررہے ہیں۔ سن لو ! یہ کیا ہی برا بوجھ اٹھاتے ہیں۔
{لِیَحْمِلُوۡۤا اَوْزَارَہُمْ:کہ اپنے بوجھ اٹھائیں۔} یعنی جن کافروں نے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے قرآنِ پاک کو پہلے لوگوں کی داستانیں کہا ، ان کا انجام یہ ہے کہ وہ قیامت کے دن اپنے گناہوں اور گمراہی کے بوجھ پورے اٹھائیں گے اور اس کے ساتھ ان لوگوں کے گناہوں کے بوجھ اٹھائیں گے جنہیں اپنی جہالت سے گمراہ کررہے ہیں۔ (2)
آیت ’’لِیَحْمِلُوۡۤا اَوْزَارَہُمْ کَامِلَۃً ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
	اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں:
(1)…’’کَامِلَۃً‘‘ فرمانے سے معلوم ہو اکہ کافروں پر دنیا میں آنے والی مصیبتوں کی وجہ سے قیامت کے دن ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہ ہو گی بلکہ انہیں تمام گناہوں کی سزا ملے گی جبکہ مومنوں پر دنیا میں آنے والی مصیبتیں ان کے گناہوں کو مٹا دیں گی یا ان کے درجات بلند کر دیں گی۔ (3) مصیبتوں سے مومن کے گناہ مٹنے کے بارے میں حضرت بریدہ اسلمی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مدارک، النحل، تحت الآیۃ: ۲۴، ص۵۹۳۔
2…خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۲۵، ۳/۱۱۸۔
3…صاوی، النحل، تحت الآیۃ: ۲۵، ۳/۱۰۶۲۔