وَ اَلْقٰی فِی الۡاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنۡ تَمِیۡدَ بِکُمْ وَ اَنْہٰرًا وَّ سُبُلًا لَّعَلَّکُمْ تَہۡتَدُوۡنَ ﴿ۙ۱۵﴾ وَ عَلٰمٰتٍؕ وَ بِالنَّجْمِ ھُمْ یَھْتَدُوْنَ﴿۱۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اس نے زمین میں لنگر ڈالے کہ کہیں تمہیں لے کر نہ کانپے اور ندیاں اور رستے کہ تم راہ پاؤ۔ اور علامتیں اور ستارے سے وہ راہ پاتے ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اس نے زمین میں لنگر ڈالے تاکہ زمین تمہیں لے کر حرکت نہ کرتی رہے اور اس نے نہریں اور راستے بنائے تاکہ تم راستہ پالو۔ اور (راستوںکیلئے) کئی نشانیاں بنائیں اور لوگ ستاروں سے راستہ پالیتے ہیں۔
{وَ اَلْقٰی فِی الۡاَرْضِ رَوَاسِیَ:اور اس نے زمین میں لنگر ڈالے۔} اللّٰہ تعالیٰ نے انسانوں کے لئے زمین میں جو نعمتیں پیدا فرمائی ہیں ان میںسے بعض کا ذکر اس آیت میں فرمایا۔آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے زمین میں مضبوط پہاڑوں کے لنگر ڈالے تاکہ وہ تمہیں لے کر حرکت نہ کرتی رہے اور اس نے زمین میں نہریں بنائیں اور راستے بنائے جن پر تم اپنے سفر کے دوران چلتے ہو اور اپنی ضروریات کی تکمیل کے لئے ایک شہر سے دوسرے شہر اور ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہو تاکہ تم اپنی منزلوں تک راستہ پا لو اور بھٹک نہ جاؤ۔ (1)
{وَعَلٰمٰتٍ:اور کئی نشانیاں بنائیں۔} یعنی اللّٰہ تعالیٰ نے راستوں کی پہچان کیلئے کئی نشانیاں بنائیں جیسے پہاڑ کہ دن میں لوگ ان کے ذریعے راستہ پاتے ہیں اور رات کے وقت لوگ خشکی اور تری میں ستاروں سے بھی راستہ پالیتے ہیں اورا س سے انہیں قبلہ کی پہچان ہوتی ہے۔ (2)
اَفَمَنۡ یَّخْلُقُ کَمَنۡ لَّا یَخْلُقُ ؕ اَفَلَا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۱۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو کیا جو بنائے وہ ایسا ہوجائے گا جو نہ بنائے تو کیا تم نصیحت نہیں مانتے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیرکبیر، النحل، تحت الآیۃ: ۱۵، ۷/۱۸۹، خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۱۵، ۳/۱۱۶، ملتقطاً۔
2…جلالین، النحل، تحت الآیۃ: ۱۶، ص۲۱۷، ملخصاً۔