Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
287 - 601
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہی ہے جس نے سمندر تمہارے قابو میں دیدئیے تا کہ تم اس میں سے تازہ گوشت کھاؤ اور تم اس میں سے زیور نکالوجسے تم پہنتے ہو اور تم اس میں کشتیوں کو دیکھتے ہو کہ پانی کو چیرتی ہوئی چلتی ہیںاور اس لئے کہ تم اس کا فضل تلاش کرو اورتاکہ تم شکر ادا کرو۔ 
{وَہُوَ الَّذِیۡ سَخَّرَ الْبَحْرَ:اور وہی ہے جس نے سمندر تمہارے قابو میں دیدئیے۔} سمندر کی تسخیر کا معنی یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے انسانوں کو سمندر سے نفع اٹھانے کی قدرت عطا کر دی ہے، وہ کشتیوں اور بحری جہازوں کے ذریعے اس میں سفر کر سکتے ہیں،غوطے لگا کر اس کی تہہ میں پہنچ سکتے ہیں اور اس میں سے شکار کر سکتے ہیں۔ (1)
{لِتَاۡکُلُوۡا مِنْہُ لَحْمًا طَرِیًّا:تا کہ تم اس میں سے تازہ گوشت کھاؤ ۔} سمندر میں انسانوں کے لئے بے شمار فوائد ہیں، ان میں سے تین فوائد اللّٰہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمائے ہیں۔
	 پہلا فائدہ: تم اس میں سے تازہ گوشت کھاتے ہو۔ اس سے مراد مچھلی ہے ۔یاد رہے کہ سمندری جانوروں میں سے صرف مچھلی کا گوشت حلال ہے۔
	 دوسرا فائدہ: تم سمندرمیں سے  زیور نکالتے ہو جسے تم پہنتے ہو۔ زیور سے مراد گوہر و مرجان ہیں اور پہننے سے مراد عورتوںکا پہننا ہے کیونکہ زیور عورتوں کی زینت ہے اور چونکہ عورتوں کازیوروں کے ذریعے سجنا سنورنا مردوں کی وجہ سے ہوتا ہے ا س لئے گویا کہ یہ مردوں کی زینت اور لباس ہے۔ (2)
	تیسرا فائدہ: اور تم اس میں کشتیوں کو دیکھتے ہو کہ پانی کو چیرتی ہوئی چلتی ہیں۔ یعنی اگر تم میں سے کوئی سمندر پر جائے تو وہ دیکھے گا کہ ہوا کا رخ ایک طرف ہونے کے باوجود (بادبانی) کشتیاں پانی کو چیرتی ہوئی آ جا رہی ہیں ۔ (3)
{وَ لِتَبْتَغُوۡا مِنۡ فَضْلِہٖ:تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو۔} یعنی سمندر کو تمہارے قابو میں اس لئے دیا تاکہ تم تجارت کی غرض سے سمندر میں سفر کرو اور اللّٰہ تعالیٰ کے فضل سے نفع حاصل کرو اور جب تم اللّٰہ تعالیٰ کا فضل اور احسان پاؤ تو تمہیں چاہئے کہ ا س پر اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو۔ (4)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…بیضاوی، النحل، تحت الآیۃ: ۱۴، ۳/۳۸۹، ملخصاً۔
2…تفسیرکبیر، النحل، تحت الآیۃ: ۱۴، ۷/۱۸۸۔
3…روح البیان، النحل، تحت الآیۃ: ۱۴، ۵/۱۹، ملخصاً۔
4…تفسیرکبیر، النحل، تحت الآیۃ: ۱۴، ۷/۱۸۹۔