Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
283 - 601
{وَمِنْہَا جَآئِرٌ:اور ان راستوںمیں سے کوئی ٹیڑھا راستہ بھی ہے۔} یعنی ان راستوں میں سے کچھ راستے ایسے ہیں جو صراطِ مستقیم سے مُنحرف ہیں اور ان پر چلنے والا منزلِ مقصود تک نہیں پہنچ سکتا ۔کفر او ر گمراہی کی تمام راہیں جیسے یہودیت، عیسائیت اور مجوسیت وغیرہ یونہی اپنی خواہشات سے نئے نئے مسلک بنا نے والے سب اس میں داخل ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ’’قَصْدُ السَّبِیۡلِ‘‘ سے مراد دینِ اسلام اور اہلسنّت والجماعت ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو صراطِ مستقیم، حسنِ اعتقاد اور اچھے اعمال پر اِستقامت عطا فرمائے اور کفر ،گمراہی اور بد مذہبی سے ہماری حفاظت فرمائے۔ (1)
{وَ لَوْ شَآءَ لَہَدٰىکُمْ اَجْمَعِیۡنَ:اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دیدیتا۔} یعنی اگر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّچاہتا تو تم سب کو سیدھے راستے تک پہنچا دیتا لیکن اس نے ایسا نہیں چاہا کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ ازل سے یہ بات جانتا ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو جنت میں جانے کے قابل ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو جہنم میں جانے کے لائق ہیں لہٰذا سب کو ہدایت نصیب نہ ہو گی۔ (2)
ہُوَالَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآ ِٔ مَآءً لَّکُمۡ مِّنْہُ شَرَابٌ وَّمِنْہُ شَجَرٌ فِیۡہِ تُسِیۡمُوۡنَ ﴿۱۰﴾ یُنۡۢبِتُ لَکُمۡ بِہِ الزَّرْعَ وَالزَّیۡتُوۡنَ وَ النَّخِیۡلَ وَ الۡاَعْنَابَ وَ مِنۡ کُلِّ الثَّمَرٰتِ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۱۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: وہی ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا اس سے تمہارا پینا ہے اور اس سے درخت ہیں جن سے چَراتے ہو۔ اس پانی سے تمہارے لیے کھیتی اگاتا ہے اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل بیشک اس میں نشانی ہے دھیان کرنے والوں کو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہی ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا، اس سے تمہارا پینا ہے اور اسی سے درخت (اگتے) ہیں جن سے تم (جانور) چراتے ہو۔ اس پانی سے وہ تمہارے لیے کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل اگاتا ہے ،
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…روح البیان، النحل، تحت الآیۃ: ۹، ۵/۱۳۔
2…صاوی، النحل، تحت الآیۃ: ۹، ۳/۱۰۵۸۔