اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت:
علما فرماتے ہیں’’ ہمیں اونٹ، گائے، بکری، گھوڑا اور خچر وغیرہ جانوروں کا مالک بنا دینا، انہیں ہمارے لئے نرم کر دینا، ان جانوروں کو اپنا تابع کرنا اور ان سے نفع اٹھانا ہمارے لئے مباح کر دینا اللّٰہ تعالیٰ کی ہم پر رحمت ہے۔ (1)
{وَ یَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوۡنَ:اور( ابھی مزید) ایسی چیزیں پیدا کرے گاجو تم جانتے نہیں۔} یعنی جانوروں کی جو اقسام تمہارے سامنے بیان کی گئیں ان کے علاوہ ابھی مزید ایسی عجیب و غریب چیزیں اللّٰہ تعالیٰ پیدا کرے گاجن کی حقیقت اور پیدائش کی کیفیت تم نہیں جانتے ۔ (2) اس میں وہ تمام چیزیں آگئیں جو آدمی کے فائدے، راحت و آرام اورآسائش کے کام آتی ہیں اور وہ اس وقت تک موجود نہیں ہوئی تھیںلیکن اللّٰہ تعالیٰ کو ان کا آئندہ پیدا کرنا منظور تھا جیسے کہ بحری جہاز ، ریل گاڑیاں ، کاریں، بسیں، ہوائی جہاز اور اس طرح کی ہزاروں، لاکھوں سائنسی ایجادات ۔ اور ابھی آئندہ زمانے میں نہ جانے کیا کیا ایجاد ہوگا لیکن جو بھی ایجاد ہوگا وہ اس آیت میں داخل ہوگا۔
وَعَلَی اللہِ قَصْدُ السَّبِیۡلِ وَمِنْہَا جَآئِرٌ ؕ وَ لَوْ شَآءَ لَہَدٰىکُمْ اَجْمَعِیۡنَ ﴿٪۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور بیچ کی راہ ٹھیک اللّٰہ تک ہے اور کوئی راہ ٹیڑھی ہے اور چاہتا تو تم سب کو راہ پر لاتا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور درمیان کا سیدھا راستہ (دکھانا) اللّٰہ کے ذمہ کرم پر ہی ہے اور ان راستوںمیں سے کوئی ٹیڑھا راستہ بھی ہے اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دیدیتا۔
{وَعَلَی اللہِ قَصْدُ السَّبِیۡلِ:اور درمیان کا سیدھا راستہ (دکھانا)اللّٰہ کے ذمہ کرم پر ہی ہے۔} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے رسول بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر سیدھے راستے کو بیان کرنا اپنے ذمہ کرم پر لیا ہو ا ہے،یہ ا س کا فضل اور احسان ہے لہٰذا جو ہدایت حاصل کرے گا تو وہ اپنے فائدے کیلئے کرے گا اور جو گمراہ ہو گا تو گمراہی کا نقصان بھی اسی کو ہے۔ (3)نیز سیدھا راستہ وہی ہے جو اللّٰہ تک پہنچانے والا ہو۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…قرطبی، النحل، تحت الآیۃ: ۸، ۵/۵۵، الجزء العاشر۔
2…ابوسعود، النحل، تحت الآیۃ: ۸، ۳/۲۴۷، جلالین، النحل، تحت الآیۃ: ۸، ص۲۱۶، ملتقطاً۔
3…صاوی، النحل، تحت الآیۃ: ۹،۳/۱۰۵۸، تفسیر طبری، النحل، تحت الآیۃ: ۹، ۷/۵۶۴، ملتقطاً۔