Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
281 - 601
اونٹ کے پاس سے گزرے جس کی پیٹھ پیٹ سے مل گئی تھی تو ارشاد فرمایا’’ ان بے زبان جانوروں کے بارے میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو، ان پر اچھی طرح سوار ہوا کرو اور انہیں اچھی طرح کھلایا کرو۔ (1)
	حضرت جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے (جانوروں کے) چہرے پر مارنے اور چہرے کو داغنے سے منع فرمایا۔ مزید فرماتے ہیں، رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے پاس سے ایک گدھا گزرا جس کے منہ کو داغا گیا تھا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے اسے داغا ہے ا س پر اللّٰہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔(2)
	حضرت مسیب بن دارم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں’’ میںنے حضرت عمر بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک شتربان کو مارا اور ا س سے فرمایا ’’ تم نے اپنے اونٹ پرا س کی طاقت سے زیادہ سامان کیوں لادا ہے؟(3)
وَّالْخَیۡلَ وَ الْبِغَالَ وَالْحَمِیۡرَ لِتَرْکَبُوۡہَا وَزِیۡنَۃً ؕ وَ یَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوۡنَ ﴿۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور گھوڑے اور خچر اور گدھے کہ ان پر سوار ہو اور زینت کے لیے اور وہ پیدا کرے گا جس کی تمہیں خبر نہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور (اس نے) گھوڑے اور خچر اور گدھے (پیدا کئے) تا کہ تم ان پر سوار ہو اور یہ تمہارے لئے زینت ہے اور (ابھی مزید) ایسی چیزیں پیدا کرے گاجو تم جانتے نہیں۔ 
{وَالْخَیۡلَ وَ الْبِغَالَ:اور گھوڑے اور خچر۔} یعنی اللّٰہ تعالیٰ نے گھوڑے،خچر اور گدھے بھی تمہارے نفع کے لئے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ی کرو اور ان میں تمہارے لئے سواری اور دیگر جو فوائد ہیں ان کے ساتھ ساتھ یہ تمہارے لئے زینت ہیں۔(4) 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…ابوداؤد، کتاب الجہاد، باب ما یؤمر بہ من القیام علی الدواب والبہائم، ۳/۳۲، الحدیث: ۲۵۴۸۔
2…مسلم، کتاب اللباس والزینۃ، باب النہی عن ضرب الحیوان فی وجہہ ووسمہ فیہ، ص۱۱۷۱،۱۱۷۲ الحدیث: ۱۰۶ (۲۱۱۶)، ۱۰۷(۲۱۱۷)۔
3…الطبقات الکبری لابن سعد، تسمیۃ من نزل البصرۃ من اصحاب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ومن کان بعدہم۔۔۔ الخ، الطبقۃ الاولی من الفقہاء المحدثین۔۔۔ الخ، المسیب بن دارم، ۷/۹۱۔
4…تفسیر طبری، النحل، تحت الآیۃ: ۸، ۷/۵۶۲۔