ترجمۂکنزالایمان: اس نے آسمان اور زمین بجا بنائے وہ ان کے شرک سے برتر ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ بنایا۔ وہ ان کے شرک سے بلندوبالا ہے۔
{خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرْضَ بِالْحَقِّ:اس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ بنایا۔} اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت اور اپنے معبود ہونے پر بطورِ دلیل ان چیزوں کا ذکر فرمایا ہے کہ جنہیں پیدا کرنے پر اللّٰہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی قادر نہیں۔ (1)آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے لوگو! تمہارے ربعَزَّوَجَلَّ نے آسمانوں اور زمین کو حکمت و مصلحت کے ساتھ پیدا کیا ہے باطل اور بیکار نہیں بنایا اور وہ زمین و آسمان کو پیدا کرنے میں یکتا ہے، انہیں عدم سے وجود میں لانے میں اس کا کوئی شریک نہیں اور نہ ہی انہیں پیداکرنے پر کسی نے اللّٰہ تعالیٰ کی مدد کی ہے تو اللّٰہ تعالیٰ کا شریک کہا ں سے آ گیا؟ اے لوگو! تمہارا ربعَزَّوَجَلَّ تمہارے شرک اور تمہارے اس دعوے کہ’’ اللّٰہ کے سوا اور بھی معبود ہیں‘‘ سے بلند و بالا ہے اور اس کی شان اتنی بلند ہے کہ کوئی ا س کا مثل، شریک یا مددگار ہو ہی نہیں سکتا۔ (2)
خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ نُّطْفَۃٍ فَاِذَا ہُوَ خَصِیۡمٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: آدمی کو ایک نِتھری بوند سے بنایا تو جبھی کھلا جھگڑالو ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس نے انسان کو منی سے پیدا کیا پھر جبھی وہ کھلم کھلا جھگڑنے والا بن گیا۔
{خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ نُّطْفَۃٍ:اس نے انسان کو منی سے پیدا کیا۔} اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت اور قدرت پر ایک اور دلیل ذکر فرمائی کہ اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو منی سے پیدا کیا ،جس میں نہ حِس ہوتی ہے نہ حرکت اور اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ سے ایک ناپاک قطرے سے عجیب وغریب مخلوق بنائی، ماں کے پیٹ میں اس قطرے کو مختلف شکلوں میں ڈھالتا رہا،پھر اس کی تخلیق پوری کرنے اورا س میں روح پھونکنے کے بعد اسے دنیا کی روشنی میں لے کر آیا، اسے غذا اور رزق دیا اورا س کی پرورش کرتا رہا ،حتّٰی کہ جب وہ اپنے قدموں پر چلنے کے قابل ہو گیا تو اس نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّکی نعمتوں
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مدارک، النحل، تحت الآیۃ: ۳، ص۵۸۹۔
2…تفسیر طبری، النحل، تحت الآیۃ: ۳، ۷/۵۵۹، روح البیان، النحل، تحت الآیۃ: ۳، ۵/۶، ملتقطاً۔