یُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِکَۃَ بِالْرُّوۡحِ مِنْ اَمْرِہٖ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖۤ اَنْ اَنۡذِرُوۡۤا اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوۡنِ ﴿۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: ملائکہ کو ایمان کی جان یعنی وحی لے کر اپنے جن بندوں پر چاہے اتارتا ہے کہ ڈر سناؤ کہ میرے سوا کسی کی بندگی نہیں تو مجھ سے ڈرو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ اپنے بندوں میں سے جس پرچاہتا ہے اس پر فرشتوں کو اپنے حکم سے روح یعنی وحی کے ساتھ نازل فرماتا ہے کہ تم ڈر سناؤ کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو مجھ سے ڈرو۔
{یُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِکَۃَ:اللّٰہ فرشتوں کو نازل فرماتا ہے ۔} اس آیت میں ملائکہ سے مراد حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام ہیں، ان کی تعظیم کے لئے جمع کا صیغہ ’’ملائکہ ‘‘ ذکر فرمایا گیا اور روح سے مراد وحی ہے۔ و حی کو روح اس لئے فرمایا گیا کہ جس طرح روح کے ذریعے جسم زندہ ہوتا ہے اور روح نہ ہو تو جسم مردہ ہو جاتا ہے اسی طرح وحی کے ذریعے دل زندہ ہوتا ہے اور اسی سے ابدی سعادت کا پتا چلتا ہے اور جو دل وحی سے دور ہو وہ مردہ ہو جاتا ہے ۔ (1)
بعض مفسرین کا قول ہے کہ ملائکہ سے حضرت جبریلعَلَیْہِ السَّلَام اور ان کے ساتھ آ نے والے وہ فرشتے مراد ہیں جو اللّٰہ تعالیٰ کے حکم سے وحی کی حفاظت پر مامور ہیں۔ (2)آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ’’ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے اپنے جن بندوں کو نبوت ، رسالت اور مخلوق کی طرف وحی کی تبلیغ کے لئے منتخب فرما لیا ہے ان پر وحی کے ساتھ فرشتوں کو نازل فرماتا ہے تا کہ وہ لوگوںکو میرا انکار کرنے اور عبادت کے لائق ہونے میں بتوں کو میرا شریک ٹھہرانے پر میرے قہر و غضب سے ڈرائیں۔ (3)
خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرْضَ بِالْحَقِّ ؕ تَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوۡنَ ﴿۳﴾
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…جلالین مع صاوی، النحل، تحت الآیۃ: ۲، ۳/۱۰۵۶۔
2…ابوسعود، النحل، تحت الآیۃ: ۲، ۳/۲۴۴۔
3…خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۲، ۳/۱۱۲-۱۱۳، تفسیر طبری، النحل، تحت الآیۃ: ۲، ۷/۵۵۷-۵۵۸، ملتقطاً۔