کی ناشکری کی اور اپنے پیدا کرنے والے کو ماننے سے انکار کر دیا اور ان بتوں کی عبادت کرنے میں مصروف ہوگیا جو اسے نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان اور یہ کہنے لگا کہ ’’مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَ ہِیَ رَمِیۡمٌ‘‘یعنی ایسا کون ہے جو ہڈیوں کو زندہ کردے جبکہ وہ بالکل گلی ہوئی ہوں۔ جبکہ وہ اس ہستی کو بھول گیا جس نے اسے گندے قطرے سے ایسی حسین شکل عطا کی تھی۔(1) شانِ نزول: یہ آیت اُبی بن خلف کے بارے میں نازل ہوئی، یہ مرنے کے بعد زندہ ہونے کا انکار کرتا تھا، ایک مرتبہ کسی مردے کی گلی ہوئی ہڈی اٹھالایا اور سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے کہنے لگا ’’ آپ کا یہ خیال ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اس ہڈی کو زندگی دے گا! اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی (2)اور نہایت نفیس جواب دیا گیا کہ ہڈی تو کچھ نہ کچھ عُضْو اور شکل رکھتی بھی ہے، اللّٰہ تعالیٰ تو منی کے ایک چھوٹے سے بے حس و حرکت قطرے سے تجھ جیسا جھگڑالو انسان پیدا کردیتا ہے، یہ دیکھ کر بھی تو اس کی قدرت پر ایمان نہیں لاتا۔ علامہ صاوی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں’’اس آیت میں اُبی بن خلف کا رد ہے اور ہر اس شخص کا بھی رد ہے جو اُبی بن خلف کے طریقے کو اپنائے ہوئے ہے۔ (3)
وَ الۡاَنْعَامَ خَلَقَہَا ۚ لَکُمْ فِیۡہَا دِفْءٌ وَّ مَنٰفِعُ وَمِنْہَا تَاۡکُلُوۡنَ ﴿۪۵﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور چوپائے پیدا کیے ان میں تمہارے لیے گرم لباس اور منفعتیں ہیں اور ان میں سے کھاتے ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اس نے جانور پیدا کئے ، ان میں تمہارے لیے گرم لباس اور بہت سے فائدے ہیں اور ان سے تم (غذابھی) کھاتے ہو۔
{وَ الۡاَنْعَامَ خَلَقَہَا:اور اس نے جانور پیدا کئے۔} اس سے پہلی آیتوں میں اللّٰہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا اور اس کے بعد انسان کی پیدائش کا ذکر فرمایا جبکہ اس آیت اور اس کے بعد والی چند آیات میں ان چیزوں کا ذکر فرمایا جن سے انسان اپنی تمام ضروریات میں نفع اٹھاتے ہیں اور چونکہ انسان کی سب سے بڑی ضرورت کھانا اور لباس ہے کیونکہ ان سے بدنِ انسانی تَقوِیَت اور حفاظت حاصل کرتا ہے ا س لئے سب سے پہلے ان جانوروں کا ذکر کیا گیا جن سے یہ فوائد
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیر طبری، النحل، تحت الآیۃ: ۴، ۷/۵۵۹، بیضاوی، النحل، تحت الآیۃ: ۴، ۳/۳۸۶، ملتقطاً۔
2…خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۴، ۳/۱۱۳۔
3…صاوی، النحل، تحت الآیۃ: ۴، ۳/۱۰۵۶۔