Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
267 - 601
فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَاَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیۡنَ ﴿۹۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو علانیہ کہہ دو جس بات کا تمہیں حکم ہے اور مشرکوں سے منہ پھیر لو ۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان:پس وہ بات اعلانیہ کہہ دو جس کاآپ کو حکم دیا جارہاہے اور مشرکوں سے منہ پھیر لو ۔
{فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ:پس وہ بات اعلانیہ کہہ دو جس کا آپ کو حکم دیا جارہاہے۔} اس آیت میں سرکارِ دو عالَمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو رسالت کی تبلیغ اور اسلام کی دعوت کے اِظہار کا حکم دیا گیا ۔ عبداللّٰہبن عبیدہ کا قول ہے کہ اس آیت کے نزول کے وقت تک دعوتِ اسلام اعلان کے ساتھ نہیں کی جاتی تھی۔ (1)
 اسلام کی دعوت دینے کے مراحل:
	 اعلانِ نبوت کے بعد تین برس تک حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ انتہائی پوشیدہ طور پر اور نہایت رازداری کے ساتھ تبلیغِ اسلام کا فرض ادا فرماتے رہے اور اس درمیان میں عورتوں میں سب سے پہلے حضرت خدیجہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہااور آزاد مردوں میں سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور لڑکوں میں سب سے پہلے حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اور غلاموں میں سب سے پہلے حضرت زید بن حارثہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ایمان لائے۔ تین برس کی اس خفیہ دعوتِ اسلام میں مردوں اور عورتوں کی ایک تعداد اسلام قبول کر کے سیدُ المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دامنِ اقدس سے وابستہ ہو گئی۔ (2)  اس کے بعد اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر سورۂ شعراء کی آیت ’’وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ‘‘ نازل فرمائی اور حکم دیا کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ اپنے قریبی خاندان والوں کو اللّٰہ تعالیٰ سے ڈرائیے۔ چنانچہ حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک دن کوہِ صفا کی چوٹی پر چڑھ کر قبیلہ قریش کو پکارا۔ جب سب قریش جمع ہو گئے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ اے میری قوم! اگر میں تم لوگوں سے یہ کہہ دوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر چھپا ہوا ہے جو تم پر حملہ کرنے والا ہے تو کیا تم لوگ میری بات کا یقین کر لو گے؟ سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ ہاں! ہاں! ہم یقینا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بات کا یقین کر
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۹۴، ۳/۱۱۰۔
2…المواہب،ذکر اوّل من آمن باللّٰہ ورسولہ، ۱/۴۵۴-۴۵۵، ۴۶۰-۴۶۱، ملخصاً۔