لیں گے کیونکہ ہم نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ہمیشہ سچا (اور امین) ہی پایا ہے۔ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا ’’ تو پھر میں یہ کہتا ہوں کہ میں تم لوگوں کو عذابِ الٰہی سے ڈرا رہا ہوں اور اگر تم لوگ ایمان نہ لائو گے تو تم پر اللّٰہ تعالیٰ کا عذاب اتر پڑے گا۔ یہ سن کر تمام قریش جن میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا چچا ابو لہب بھی تھا، سخت ناراض ہو ا اور سب کے سب چلے گئے اور حضورِاقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی شان میں اول فول بکنے لگے۔ (1) اب وہ وقت آگیا کہ اعلانِ نبوت کے چوتھے سال سورئہ حجر کی آیت’’فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ‘‘ نازل فرمائی اور اللّٰہ تعالیٰ نے یہ حکم فرمایا کہ اے حبیب! آپ کو جو حکم دیا گیا ہے اس کو علی الاعلان بیان فرمائیے۔ چنانچہ اس کے بعد آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَعلانیہ طور پر دینِ اسلام کی تبلیغ فرمانے لگے اور شرک و بت پرستی کی کھلم کھلا برائی بیان فرمانے لگے اور تمام قریش (بلکہ تمام اہلِ مکہ بلکہ پورا عرب) آپ صَلَّیاللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مخالفت پر کمر بستہ ہو گیا اور حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور مسلمانوں کی ایذا رسانیوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو گیا۔ (2)
{وَاَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیۡنَ:اور مشرکوں سے منہ پھیر لو۔} یعنی اے حبیب !صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ اپنا دین ظاہر کرنے اور اپنے رب عَزَّوَجَلَّکی رسالت کی تبلیغ کرنے پر مشرکوں کی طرف سے ملامت کرنے کی پروا ہ نہ کریں اور اُن کی طرف متوجہ نہ ہوں اور ان کے اِستہزا کا غم نہ کریں۔ (3)
اِنَّا کَفَیۡنٰکَ الْمُسْتَہۡزِءِیۡنَ ﴿ۙ۹۵﴾ الَّذِیۡنَ یَجْعَلُوۡنَ مَعَ اللہِ اِلٰہًا اٰخَرَ ۚ فَسَوْفَ یَعْلَمُوۡنَ ﴿۹۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: بیشک ان ہنسنے والوں پر ہم تمہیں کفا یت کرتے ہیں۔ جو اللّٰہ کے ساتھ دوسرا معبود ٹھہراتے ہیں تو اب جان جائیں گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک ان ہنسنے والوں کے مقابلے میںہم تمہیں کافی ہوں گے۔ جو اللّٰہکے ساتھ دوسرا معبود ٹھہراتے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…بخاری، کتاب التفسیر، سورۃ الشعرائ، باب ولا تخزنی یوم یبعثون، ۳/۲۹۴، الحدیث: ۴۷۷۰۔
2…المواہب، ذکر اوّل من آمن باللّٰہ ورسولہ، ۱/۴۶۱-۴۶۲۔
3…خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۹۴، ۳/۱۱۰۔