Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
266 - 601
وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا حال دریافت کرتے اور کہتے کہ ہم نے مکہ مکرمہ آتے ہوئے شہر کے کنارے اُن کی نسبت ایسا سنا۔ وہ کہہ دیتا کہ ٹھیک سنا ۔اس طرح مخلوق کو بہکاتے اور گمراہ کرتے، ان لوگوں کو اللّٰہ تعالیٰ نے ہلاک کیا۔ (1)
عذاب کی تشبیہ سے متعلق ایک اعتراض کا جواب:
	علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اس مقام پر ایک اعتراض قائم کر کے اس کا جواب دیا ہے ،وہ اعتراض یہ ہے کہ جس عذاب سے ڈرایا گیا ہے اسے کسی ا یسی چیز کے ساتھ تشبیہ دینی چاہئے کہ جو واقع ہو چکی ہو تاکہ اس کے ذریعے نصیحت حاصل ہو حالانکہ جب یہ آیت نازل ہوئی اس وقت تک تو تقسیم کرنے والوں پر کوئی عذاب نازل نہیں ہو اتھا ۔ اس کے جواب میں فرماتے ہیں ’’یہاں عذاب کو اس چیز کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جس کا واقع ہونا یقینی تھاتو یہ گویا کہ ایسے ہے جیسے واقع ہو گیا اور غزوۂ بدر کے دن اس کا وقوع ہو گیاتھا لہٰذا یہاں تقسیم کرنے والوں کے عذاب کے ساتھ ا س عذاب کو تشبیہ دینا درست ہے جس سے ڈرایا گیا ہے۔ (2)
فَوَرَبِّکَ لَنَسْـَٔلَنَّہُمْ اَجْمَعِیۡنَ ﴿ۙ۹۲﴾ عَمَّا کَانُوۡا یَعْمَلُوۡنَ ﴿ٙ۹۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو تمہارے رب کی قسم ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے۔  جو کچھ وہ کرتے تھے۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو تمہارے رب کی قسم ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے۔ اُس کے بارے میں جو وہ کرتے تھے۔
{فَوَرَبِّکَ:تو تمہارے رب کی قسم ۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کے رب عَزَّوَجَلَّکی قسم! ہم قیامت کے دن مُقْتَسِمِینسے ان کے ا س عمل اور دیگر تمام گناہوں کے بارے میں ضرور پوچھیں گے ۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کے رب عَزَّوَجَلَّ کی قسم! ہم قیامت کے دن تما م مُکَلِّفین سے ان کے ایمان ،کفر اور دیگر تمام اعمال کے بارے میں پوچھیں گے۔ (3) 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۹۰، ۳/۱۰۹-۱۱۰، مدارک، الحجر، تحت الآیۃ: ۹۱، ص۵۸۷، خزائن العرفان، الحجر، تحت الآیۃ: ۹۱، ص۴۹۸، ملتقطاً۔
2…صاوی، الحجر، تحت الآیۃ: ۹۰، ۳/۱۰۵۱، ملخصاً۔
3…تفسیرکبیر، الحجر، تحت الآیۃ: ۹۲، ۷/۱۶۴، ملخصاً۔