ترجمۂکنزالایمان: اور فرماؤ کہ میں ہی ہوں صاف ڈر سنانے والا ۔جیسا ہم نے بانٹنے والوں پر اتارا۔ جنہوں نے کلامِ الٰہی کو تکے بوٹی کرلیا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تم فرماؤ کہ میں ہی صاف ڈر سنانے والاہوں۔ جیسا ہم نے تقسیم کرنے والوں پر اتارا۔ جنہوں نے کلامِ الٰہی کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے۔
{وَقُلْ:اور تم فرماؤ ۔} یعنی اے حبیب ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ مشرکین سے فرما دیں کہ میں ہی عذاب کا صاف ڈر سنانے والا ہوں کہ سرکشی میں تمہاری زیادتی کی وجہ سے کہیں تم پر بھی ویسا ہی عذاب نازل نہ ہو جائے جیسا اللّٰہ تعالیٰ نے تقسیم کرنے والوں پر نازل کیا۔ (1)
{اَلَّذِیۡنَ:جنہوں نے۔ }تقسیم کرنے والوں سے کون لوگ مراد ہیں؟ اس بارے میں مفسرین کے متعدد اقوال ہیں:
(1)…حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرما تے ہیں کہ تقسیم کرنے والوں سے یہودی اور عیسائی مراد ہیں، کیونکہ انہوں نے قرآنِ پاک کو دو حصوں میں تقسیم کردیا یعنی قرآنِ کریم کا جو حصہ اُن کی کتابوں کے موافق تھا وہ اس پر ایمان لائے اور باقی کے منکر ہوگئے۔
(2)…حضرت قتادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور ابن سائب کا قول ہے کہ بانٹنے والوں سے کفارِ قریش مراد ہیں ،ان میں سے بعض کفار قرآن کو جادو، بعض کہانت اور بعض افسانہ کہتے تھے، اس طرح انہوں نے قرآنِ کریم کے بارے میں اپنے اقوال تقسیم کررکھے تھے ۔
(3)… ایک قول یہ ہے کہ بانٹنے والوں سے وہ بارہ اَشخاص مراد ہیں جنہیں کفار نے مکہ مکرمہ کے راستوں پر مقرر کیا تھا، حج کے زمانے میں ہرہر راستہ پر ان میں سے ایک ایک شخص بیٹھ جاتا تھااور وہ آنے والوں کو بہکانے اور نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے مُنحرف کرنے کے لئے ایک ایک بات مقرر کرلیتا تھا کہ کوئی آنے والوں سے یہ کہتا تھا ’’ اُن کی باتوں میں نہ آنا کہ وہ جادو گر ہیں، کوئی کہتا وہ کذّاب ہیں، کوئی کہتا وہ مجنون ہیں، کوئی کہتا وہ کاہن ہیں، کوئی کہتا وہ شاعر ہیں۔ یہ سن کر لوگ جب خانہ کعبہ کے دروازے پر آتے تو وہاں ولید بن مغیرہ بیٹھا رہتا، اس سے رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیر طبری، الحجر، تحت الآیۃ: ۸۹-۹۰، ۷/۵۴۳۔