Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
264 - 601
’’لَقَدْ جَآءَکُمْ رَسُوۡلٌ مِّنْ اَنۡفُسِکُمْ عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَاعَنِتُّمْ حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ بِالْمُؤْمِنِیۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ‘‘ (1)
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک تمہارے پاس تم میں سے وہ عظیم رسول تشریف لے آئے جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا بہت بھاری گزرتا ہے، وہ تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے، مسلمانوں پر بہت مہربان، رحمت فرمانے والے ہیں۔
	یہ تو قرآنِ مجید سے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی مسلمانوں پر رحمت و شفقت کا بیان ہو ا،اب مسلمانوں پر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رحمت و شفقت کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں
(1)…امت کے کمزور، بیمار اور کام کاج کرنے والے لوگوں کی مشقت کے پیشِ نظر عشاء کی نماز کو تہائی رات تک مؤخر نہ فرمایا۔
(2)…کمزور اور بیمار لوگوں اور بچوں کا لحاظ کرتے ہوئے نماز کی قراء ت کو زیادہ لمبا نہ کرنے کا حکم دیا۔
(3)… رات کے نوافل پر ہمیشگی نہ فرمائی تاکہ یہ امت پر فرض نہ ہو جائیں۔
(4)…امت کے مشقت میں پڑ جانے کی وجہ سے انہیں صومِ وصال کے روزے رکھنے سے منع کر دیا۔
(5)… امت کی مشقت کی وجہ سے ہر سال حج کو فرض نہ فرمایا۔
(6)…مسلمانوں پر شفقت کرتے ہوئے طواف کے تین چکروں میں رَمل کا حکم دیا تمام چکروں میں نہیں دیا۔
(7)…تاجدارِ رسالتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپوری پوری رات جاگ کر عبادت میں مصروف رہتے اور امت کی مغفرت کے لئے اللّٰہ تعالیٰ کے دربار میں انتہائی بے قراری کے ساتھ گریہ و زاری فرماتے رہتے، یہاں تک کہ کھڑے کھڑے اکثر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پائے مبارک پر ورم آ جاتا تھا۔
وَقُلْ اِنِّیۡۤ اَنَا النَّذِیۡرُ الْمُبِیۡنُ ﴿ۚ۸۹﴾ کَمَاۤ اَنۡزَلْنَا عَلَی المُقْتَسِمِیۡنَ ﴿ۙ۹۰﴾ الَّذِیۡنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِیۡنَ ﴿۹۱﴾
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…توبہ:۱۲۸۔