وَ لَقَدْ کَذَّبَ اَصْحٰبُ الۡحِجْرِ الْمُرْسَلِیۡنَ ﴿ۙ۸۰﴾ وَ اٰتَیۡنٰہُمْ اٰیٰتِنَا فَکَانُوۡا عَنْہَا مُعْرِضِیۡنَ ﴿ۙ۸۱﴾ وَکَانُوۡا یَنْحِتُوۡنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوۡتًا اٰمِنِیۡنَ ﴿۸۲﴾ فَاَخَذَتْہُمُ الصَّیۡحَۃُ مُصْبِحِیۡنَ ﴿ۙ۸۳﴾ فَمَاۤ اَغْنٰی عَنْہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَکْسِبُوۡنَ ﴿ؕ۸۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک حجر والو ں نے رسولوں کو جھٹلایا ۔ اور ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دیں تو وہ ان سے منہ پھیرے رہے۔ اور وہ پہاڑوں میں گھر تراشتے تھے بے خوف۔ تو انہیں صبح ہوتے چنگھاڑ نے آلیا۔ تو ان کی کمائی کچھ ان کے کام نہ آئی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک حِجر والو ں نے رسولوں کو جھٹلایا۔ اور ہم نے انہیں اپنی نشانیاں دیں تو وہ ان سے منہ پھیرے رہے۔اور وہ بے خوف ہو کرپہاڑوں میں تراش تراش کر گھر بناتے تھے ۔ تو انہیں صبح ہوتے زور دار چیخ نے پکڑ لیا ۔تو ان کی کمائی کچھ ان کے کام نہ آئی ۔
{وَ لَقَدْ کَذَّبَ اَصْحٰبُ الۡحِجْرِ:اور بیشک حجر والو ں نے جھٹلایا۔} حِجْرمدینہ منورہ اور شام کے درمیان ایک وادی ہے جس میں قومِ ثمود رہتے تھے ، انہوں نے اپنے پیغمبر حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی تکذیب کی اور ایک رسول عَلَیْہِ السَّلَام کی تکذیب تمام رسولوںعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی تکذیب ہے کیونکہ ہر رسول تمام رسولوںعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لانے کی دعوت دیتا ہے تو جس نے کسی ایک رسولعَلَیْہِ السَّلَام کو جھٹلایا تو گویا کہ اس نے تمام رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا۔ (1)
نوٹ: قومِ ثمود کے واقعات تفصیل کے ساتھ سورۂ اَعراف اور سورۂ ہود میں گزر چکے ہیں۔
{وَ اٰتَیۡنٰہُمْ اٰیٰتِنَا:اور ہم نے انہیں اپنی نشانیاں دیں۔} یعنی ہم نے قومِ ثمود کو اپنی نشانیاں دیں کہ پتھر سے اونٹنی پیدا کی جو بہت سے عجائبات پر مشتمل تھی مثلاً اس کا جسم بڑا ہونا، پیدا ہوتے ہی بچہ جننا اور کثرت سے دودھ دینا کہ پوری قومِ ثمود کو کافی ہو وغیرہ ، یہ سب حضرت صالحعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے معجزات اور قومِ ثمود کے لئے ہماری نشانیاں تھیں تو وہ ان
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مدارک، الحجر، تحت الآیۃ: ۸۰، ص۵۸۶۔