اور طہارت نصیب ہوتی ہے۔ بے عقل ،غافل اور کافر ایسے واقعات کو اتفاقی یا آسمانی تاثیرات سے مانتا ہے جیسا کہ آج بھی دیکھا جا رہا ہے، لیکن عقلمند مومن ان کو مخلوق کی بد عملی کا نتیجہ جان کر دل میں اللّٰہ تعالیٰ کا خوف پیدا کرتا ہے۔
وَ اِنۡ کَانَ اَصْحٰبُ الۡاَیۡکَۃِ لَظٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۷۸﴾ فَانۡتَقَمْنَا مِنْہُمْ ۘ وَ اِنَّہُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ؕ٪۷۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک جھاڑی والے ضرور ظالم تھے ۔ تو ہم نے ان سے بدلہ لیا اور بیشک یہ دونوں بستیاں کھلے راستہ پر پڑتی ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک کثیر درختوں والی جگہ کے رہنے والے ضرور ظالم تھے۔ تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور بیشک وہ دونوں بستیاں صاف راستے پر ہیں۔
{وَ اِنۡ کَانَ اَصْحٰبُ الۡاَیۡکَۃِ:اور بیشک کثیر درختوں والی جگہ کے رہنے والے۔} اس آیت میں ’’اَصْحٰبُ الْاَیْکَۃِ‘‘ سے حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم مراد ہے۔ اَیْکَہ جھاڑی کو کہتے ہیں ،ان لوگوں کا شہر چونکہ سرسبز جنگلوں اور مَرغْزاروں کے درمیان تھا اس لئے انہیں جھاڑی والا فرمایا گیا اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان پر رسول بنا کر بھیجا اوران لوگوںنے نافرمانی کی اور حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایاتو اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کر دیا۔ (1)ان کا واقعہ سورۂ شعراء میں بھی مذکور ہے ۔
{فَانۡتَقَمْنَا مِنْہُمْ:تو ہم نے ان سے انتقام لیا ۔} یعنی ہم نے عذاب بھیج کر انہیں ہلاک کر دیااور بیشک قومِ لوط کے اور اصحابِ اَیْکَہکے شہر صاف راستے پر ہیں جہاں سے آدمی گزرتے اور دیکھتے ہیں تو اے اہلِ مکہ !تم اُنہیں دیکھ کر کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے۔ (2)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۷۷، ۳/۱۰۷، ملخصاً۔
2…جلالین، الحجر، تحت الآیۃ: ۷۹، ص۲۱۴، خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۷۹، ۳/۱۰۷، ملتقطاً۔