Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
251 - 601
{لَعَمْرُکَ:اے محبوب! تمہاری جان کی قسم!}  اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے خطاب فرمایا ، حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں’’اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کی جان کی قسم! حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا مزید فرماتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے  کوئی جان بارگاہِ الٰہی میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی جانِ پاک کی طرح عزت و حرمت نہیں رکھتی  اور اللّٰہ تعالیٰ نے سیّد المرسَلینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عمر کے سوا کسی کی عمر اور زندگی کی قسم نہیں فرمائی یہ مرتبہ صرف حضورِ اقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہی کا ہے۔ اس قسم کے بعد اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’ بیشک وہ کافر یقینا اپنے نشہ میں بھٹک رہے ہیں۔ (1)
	نوٹ: بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ کلام فرشتوں نے حضرت لوطعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے فرمایا۔ (2)
اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نبی کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا مقام:
	اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں: اے مسلمان ! یہ مرتبۂ جلیلہ اس جانِ محبوبیت کے سو ا کسے میسر ہوا کہ قرآنِ عظیم نے ان کے شہرکی قسم کھائی ، ان کی باتوں کی قسم کھائی ، ان کے زمانے کی قسم کھائی ،ان کی جان کی قسم کھائی، صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ۔ ہاں اے مسلمان ! محبوبیتِ کبریٰ کے یہی معنی ہیں۔ ابنِ مردویہ اپنی تفسیر میں حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے راوی، حضور سید المرسلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں: اللّٰہ تعالیٰ نے کبھی کسی کی زندگی کی قسم یاد نہ فرمائی سوائے محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہ وَسَلَّمَ کے کہ آیۂ لَعَمْرُکَمیں فرمایا :تیری جان کی قسم، اے محمد!
	ابو یعلیٰ، ابن جریر ، ابن مردویہ ،  بیہقی ،ابو نعیم ،ابن عساکر ، بغوی حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰیعَنْہُمَا سے راوی:اللّٰہ تعالیٰ نے ایسا کوئی نہ بنایا ،نہ پیدا کیا ،نہ آفرینش فرمایا جو اسے محمدصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَسے زیادہ عزیز ہو ، نہ کبھی ان کی جان کے سوا کسی جان کی قسم یاد فرمائی کہ ارشاد کرتا ہے: مجھے تیری جان کی قسم وہ کافر اپنی مستی میں بہک رہے ہیں ۔
	امام حجۃ الاسلام محمد غزالی احیاء العلوم اور امام محمد بن الحاج عبدری مکی مدخل اور امام احمد محمد خطیب قسطلانی مواہب لدنیہ اور علامہ شہاب الدین خفاجی نسیم الریاض میں ناقل حضرت امیر المومنین عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ایک حدیثِ طویل میں حضور سید المرسلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَسے عرض کرتے ہیں :یا رسولَ اللّٰہ ! میرے ماں باپ حضور پر قربان، 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۷۲، ۳/۱۰۶، ملخصاً۔
2…مدارک، الحجر، تحت الآیۃ:۷۲، ص۵۸۵۔