Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
252 - 601
بیشک حضور کی بزرگی خدا تعالیٰ کے نزدیک اس حد کو پہنچی کہ حضور کی زندگی کی قسم یاد فرمائی ،نہ باقی انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی۔ اور تحقیق حضور کی فضلیت خدا کے یہاں اس نہایت کی ٹھہری کہ حضور کی خاکِ پاکی قسم یاد فرمائی کہ ارشاد کرتا ہے: مجھے قسم اس شہر کی ۔ (1)
	حدائقِ بخشش میں آپ رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کیا خوب فرماتے ہیں:
وہ خدانے ہے مرتبہ تجھ کو دیا نہ کسی کو ملے نہ کسی کو ملا	کہ کلامِ مجید نے کھائی شہا تِرے شہرو کلام و بقا کی قسم
فَاَخَذَتْہُمُ الصَّیۡحَۃُ مُشْرِقِیۡنَ ﴿ۙ۷۳﴾ فَجَعَلْنَا عَالِیَہَا سَافِلَہَا وَاَمْطَرْنَا عَلَیۡہِمْ حِجَارَۃً مِّنۡ سِجِّیۡلٍ ﴿ؕ۷۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو دن نکلتے انہیں چنگھاڑ نے آلیا ۔ تو ہم نے اس بستی کا اوپر کا حصہ اس کے نیچے کا حصہ کردیا اور ان پر کنکر کے پتھر برسائے۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو دن نکلتے ہی انہیں زوردار چیخ نے آپکڑا۔ تو ہم نے اس بستی کا اوپر کا حصہ اس کے نیچے کا حصہ کردیا اور ان پر کنکر کے پتھر برسائے۔
{فَاَخَذَتْہُمُ الصَّیۡحَۃُ:تو انہیں زور دار چیخ نے آپکڑا ۔} یعنی سورج نکلتے وقت حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کو حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَامکی زور دار چیخ نے آپکڑا۔ (2)
{فَجَعَلْنَا عَالِیَہَا سَافِلَہَا:تو ہم نے اس بستی کا اوپر کا حصہ اس کے نیچے کا حصہ کردیا۔} یعنی ہم نے حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی بستی کا اوپر کا حصہ اس کے نیچے کا حصہ کردیا اس طرح کہ حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام زمین کے اس حصے کو اُٹھا کر آسمان کے قریب لے گئے اور وہاں سے اوندھا کرکے زمین پر ڈال دیا ۔ (3)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…فتاویٰ رضویہ، ۳۰/۱۵۹-۱۶۲۔
2…مدارک، الحجر، تحت الآیۃ: ۷۳، ص۵۸۵، ملخصاً۔
3…مدارک، الحجر، تحت الآیۃ: ۷۴، ص۵۸۵۔