کی مہمان نوازی فرماتے ہیں چنانچہ حضرت ابو الخیر حماد بن عبداللّٰہ اقطع رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ’’میں رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے شہر (مدینہ منورہ) میں داخل ہوا اور (اس وقت) میں فاقے کی حالت میں تھا، میں نے پانچ دن قیام کیا اور اتنے دن میں کھانے پینے کی کوئی چیز تک نہ چکھ سکا، (بالآخر) میں قبرِ انور کے پاس حاضر ہوا اور حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی بارگاہ میں سلام پیش کیا اور عرض کی: یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، میں آج کی رات آپ کا مہمان ہوں ۔پھر میں اپنی جگہ سے ہٹ کر منبرِ اقدس کے پیچھے سو گیا تو میں نے خواب میں نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زیارت کی، حضرت ابو بکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ آپ کے دائیں طرف، حضرت عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ آپ کے بائیں طرف اور حضرت علی بن ابو طالب کَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم آپ کے سامنے تھے، حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے مجھے حرکت دی اور فرمایا: کھڑے ہو جاؤ، رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰیعَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف لائے ہیں۔ میں کھڑے ہو کر بارگاہِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں حاضر ہوا اور آپ کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مجھے ایک روٹی عطا فرمائی تو میں نے آدھی روٹی کھا لی،پھر میں خواب سے بیدار ہوا توبقیہ آدھی روٹی میرے ہاتھ میں تھی۔ (1) یہ واقعہ علامہ ابن عساکر رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے علاوہ علامہ عبد الرحمن بن علی جوزی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنی کتاب ’’صِفَۃُ الصَّفْوَہ‘‘جلد2 صفحہ 236 جزء 4 پر، علامہ عبد الوہاب شعرانی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے طبقات الکبریٰ جلد 1 صفحہ 154 جزئ1 پر، علامہ عمر بن علی شافعی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے طبقاتِ اولیا، صفحہ 192-191 پر اور علامہ ابو عبد الرحمن محمد بن حسین رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے طبقاتِ صوفیہ صفحہ 281پر بھی ذکر فرمایاہے۔
{وَاتَّقُوا اللہَ:اور اللّٰہ سے ڈرو۔} یعنی مہمانوں کے معاملے میںتم اللّٰہ تعالیٰ (کے عذاب) سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے ساتھ برا ارادہ کر کے مجھے رسوا نہ کرو۔ (2)
مہمان کی بے عزتی میزبان کی رسوائی کا سبب ہے:
اس سے معلوم ہوا کہ جیسے مہمان کے احترام میں میزبان کی عزت ہوتی ہے ایسے ہی مہمان کی بے عزتی میزبان
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تاریخ دمشق، ابو الخیر الاقطع التیتانی، ۶۶/۱۶۱۔
2…خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۶۹، ۳/۱۰۶، مدارک، الحجر، تحت الآیۃ: ۶۹، ص۵۸۵، ملتقطاً۔