(1)…حضرت ابو رافع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ایک شخص حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا مہمان بنا ، اس وقت آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس کوئی ایسی چیز نہ تھی جس سے اس کی مہمان نوازی فرماتے، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے مجھے ایک یہودی شخص کے پاس بھیجا (اور مجھ سے فرمایا کہ اس سے کہو:) محمد (مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) تم سے کہتے ہیں کہ (میرے پاس مہمان آیا ہے اس لئے) مجھے رجب کا چاند نظر آنے تک آٹا قرض دے دو۔ یہودی نے کہا: اس وقت تک آٹا نہیں ملے جب تک کوئی چیز رہن نہ رکھو گے ۔ میں حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور انہیں یہودی کی بات بتائی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!میں آسمان میں بھی امین ہوں زمین پر بھی امین ہوں ،اگر مجھے آٹا قرض دے دیتا یا بیچ دیتا تو میں ضرور اسے ادا کر دیتا، اب تم میری لوہے کی زرہ لے جاؤ (اور اسے رہن رکھ دو) چنانچہ میں وہ زرہ لے گیا (اور اسے رہن رکھ کر آٹا لے آیا) (1)
(2)… مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے کہ ایک دیہاتی رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور بھوک کی شکایت کی تو آپ اپنی (ازواجِ مطہرات کے) گھروں میں تشریف لے گئے ،پھر باہر تشریف لائے تو ارشاد فرمایا ’’مجھے آلِ محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کے گھروں میں تیرے لئے کوئی چیز نہیں ملی، اسی دوران (کسی کی طرف سے) آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بارگاہ میں بھنی ہوئی بکری پیش ہوئی تو اسے دیہاتی کے سامنے رکھ دیا گیا۔ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ا س سے فرمایا ’’تم کھاؤ۔ اس نے کھایا، پھر عرض کی :یا رسولَ اللّٰہ !صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، مجھے بھوک کی تکلیف پہنچی تو اللّٰہ تعالیٰ نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دستِ اقدس سے مجھے رزق دے دیا، اگر پھر کبھی ایسا ہو اور میں آپ کی بارگاہ میں حاضر نہ ہوں تو کیا کروں؟ ارشاد فرمایا تم کہو ’’اَللّٰہُمَّ اِنِّی اَسْاَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ وَرَحْمَتِکَ ، فَاِنَّہٗ لَا یَمْلِکُہُمَا اِلاَّ اَنْتَ‘‘اے اللّٰہ!میں تجھ سے تیرے فضل اور تیری رحمت کا سوال کرتا ہوں کیونکہ فضل ورحمت کا صرف تو ہی مالک ہے ۔‘‘ تو بے شک اللّٰہ تعالیٰ تجھے رزق دینے والا ہے۔ (2)
(3)… تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا اپنی ظاہری حیاتِ مبارکہ میں مہمان نوازی فرمانا تو اپنی جگہ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مزارِ اقدس میں تشریف لے جانے کے بعد بھی اپنے در پہ حاضر ہونے والے بہت سے لوگوں
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…معجم الکبیر، یزید بن عبد اللّٰہ بن قسیط عن ابی رافع، ۱/۳۳۱، الحدیث: ۹۸۹، معرفۃ الصحابہ، باب الالف، اسلم ابو رافع، ۱/۲۴۱، الحدیث: ۸۶۵، ملتقطاً۔
2…مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الدعاء، الرّجل یصیبہ الجوع او یضیق علیہ الرزق ما یدعو بہ، ۷/۹۴، الحدیث: ۱۔