وَجَآءَ اَہۡلُ الْمَدِیۡنَۃِ یَسْتَبْشِرُوۡنَ ﴿۶۷﴾ قَالَ اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ ضَیۡفِیۡ فَلَا تَفْضَحُوۡنِ ﴿ۙ۶۸﴾ وَاتَّقُوا اللہَ وَلَا تُخْزُوۡنِ ﴿۶۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور شہر والے خوشیاں مناتے آئے۔ لوط نے کہا یہ میرے مہمان ہیں مجھے فضیحت نہ کرو۔ اور اللّٰہ سے ڈرو اور مجھے رسوا نہ کرو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور شہر والے خوشی خوشی آئے۔ لوط نے فرمایا: یہ میرے مہمان ہیں تو تم مجھے شرمندہ نہ کرو ۔اور اللّٰہ سے ڈرو اور مجھے رسوا نہ کرو۔
{وَجَآءَ اَہۡلُ الْمَدِیۡنَۃِ:اور شہر والے آئے۔} حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی قوم کے لوگ شہرِ سدوم میں آباد تھے ، انہوں نے جب حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے یہاں خوب صورت نوجوانوں کے آنے کی خبرسنی جوکہ فرشتے تھے تو یہ لوگ فاسد ارادے اور ناپاک نیت کے ساتھ خوشی خوشی آئے ۔ (1)
{قَالَ:فرمایا۔} یعنی حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنی قوم سے فرمایا’’ یہ میرے مہمان ہیں اور مہمان کا اکرام لازم ہوتا ہے تم اُن کی بے حرمتی کا قصد کرکے مجھے شرمندہ نہ کرو کہ مہمان کی رسوائی میزبان کے لئے خَجالت اور شرمندگی کا سبب ہوتی ہے۔ (2)
تاجدارِ رسالتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی مہمان نوازی:
اس سے معلوم ہوا کہ مہمان کی عزت و احترام اور خاطر تواضع کرنا انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی سنت ہے اگرچہ میزبان اس سے واقف بھی نہ ہو ۔ یہاں سیّدُ المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مہمان نوازی کے 3 واقعات ملاحظہ ہوں:
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…جلالین، الحجر، تحت الآیۃ: ۶۷، ص۲۱۴، ملخصاً۔
2…خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۶۸، ۳/۱۰۶، مدارک، الحجر، تحت الآیۃ: ۶۸، ص۵۸۵، ملتقطاً۔