فَاَسْرِ بِاَہۡلِکَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیۡلِ وَاتَّبِعْ اَدْبٰرَہُمْ وَلَا یَلْتَفِتْ مِنۡکُمْ اَحَدٌ وَّامْضُوۡا حَیۡثُ تُؤْمَرُوۡنَ ﴿۶۵﴾ وَقَضَیۡنَاۤ اِلَیۡہِ ذٰلِکَ الۡاَمْرَ اَنَّ دَابِرَ ہٰۤؤُلَآءِ مَقْطُوۡعٌ مُّصْبِحِیۡنَ ﴿۶۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو اپنے گھر والوں کو کچھ رات رہے لے کر باہر جائیے اور آپ ان کے پیچھے چلئے اور تم میں کوئی پیچھے پھر کر نہ دیکھے اور جہاں کو حکم ہے سیدھے چلے جایئے۔ اور ہم نے اسے اس حکم کا فیصلہ سنادیا کہ صبح ہوتے ان کافروں کی جڑ کٹ جائے گی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو آپ رات کے کسی حصے میں اپنے گھر والوں کو لے چلیں اور آپ خود ان کے پیچھے پیچھے چلیں اور تم لوگوں میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے اور سیدھے چلتے رہو جہاں کا تمہیں حکم دیا جارہا ہے۔ اور ہم نے اسے اس حکم کا فیصلہ سنادیا کہ صبح کے وقت ان کافروں کی جڑ کٹ جائے گی۔
{فَاَسْرِ بِاَہۡلِکَ:تو آپ اپنے گھر والوں کو لے چلیں۔} یعنی آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامرات کے کسی حصے میں اپنے گھر والوں کو لے چلیں اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام خود ان کے پیچھے پیچھے چلیں تاکہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ان کی حالت پر مطلع رہیں اور تم لوگوں میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے کہ قوم پر کیا بلا نازل ہوئی اور وہ کس عذاب میں مبتلا کئے گئے اور سیدھے اس طرف چلتے رہو جہاں جانے کا اللّٰہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے۔حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ملک ِشام جانے کا حکم ہوا تھا۔ (1)
{وَقَضَیۡنَاۤ اِلَیۡہِ ذٰلِکَ الۡاَمْرَ:اور ہم نے اسے اس حکم کا فیصلہ سنادیا ۔} یعنی ہم نے حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف اُس حکم کی وحی کر دی جس کافیصلہ ہم نے اس کی قوم کے بارے میںکیا تھاکہ صبح کے وقت ان کافروں کی جڑ کٹ جائے گی اور پوری قوم عذاب سے ہلاک کردی جائے گی۔ (2)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مدارک، الحجر، تحت الآیۃ: ۶۵، ص۵۸۴-۵۸۵، خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۶۵، ۳/۱۰۶، ملتقطاً۔
2…خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۶۶، ۳/۱۰۶، مدارک، الحجر، تحت الآیۃ: ۶۶، ص۵۸۵، ملتقطاً۔