آیت ’’اِلَّا امْرَاَتَہٗ قَدَّرْنَاۤ‘‘سے حاصل ہونے والی معلومات:
اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں
(1)… نیک بختی اور بد بختی کا علم اللّٰہ تعالیٰ نے فرشتوں کو دیا ہے اور فرشتے اللّٰہ تعالیٰ کی عطا سے جانتے ہیں کہ کون مومن مرے گا اور کون کافر۔
(2)…اس بات کو سمجھنے سے پہلے یہ سوال و جواب پڑھئے۔ سوالـ: حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی بیوی کا پیچھے رہ جانے والوں میں طے کرنا اللّٰہ تعالیٰ کا کام ہے، تو فرشتوں نے اس کی نسبت اللّٰہ تعالیٰ کی طرف کرنے کی بجائے اپنی طرف کیوں کی؟ اس کے جواب میں امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں’’فرشتوں نے طے کرنے کی نسبت اپنی طرف اس لئے کی کہ انہیں اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں خاص مقام اور قرب حاصل ہے جیسے بادشاہ کے خاص آدمی یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اس طرح تدبیر کی ، ہم نے اس طرح حکم دیا حالانکہ تدبیر کرنے والا اور حکم دینے والا تو بادشاہ ہوتا ہے نہ کہ وہ لوگ ہوتے ہیں اور ا س کلام سے محض اُن کی مراد بادشاہ کے پاس انہیں حاصل مقام و مرتبہ ظاہر کرنا ہوتا ہے تو اسی طرح یہاں ہے (کہ فرشتوں کے اس کلام سے اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں انہیں حاصل مقام و مرتبہ ظاہر ہو رہا ہے) (1) اس سے معلوم ہوا کہ جسے اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں خاص مقام اور قرب حاصل ہو وہ اللّٰہ تعالیٰ کے بعض کاموں کو اپنی طرف منسوب کر سکتاہے ،قرآنِ مجید میں ہی اس کی دوسری مثال یہ ہے کہ کسی کو زندہ کرنا اور مریض کو شفا دینا در حقیقت اللّٰہ تعالیٰ کا کام ہے اور اس کام کی نسبت حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنی طرف کرتے ہوئے فرمایا
اَنِّیۡۤ اَخْلُقُ لَکُمۡ مِّنَ الطِّیۡنِ کَہَیۡئَۃِ الطَّیۡرِ فَاَنۡفُخُ فِیۡہِ فَیَکُوۡنُ طَیۡرًۢا بِاِذْنِ اللہِۚ وَاُبْرِیُٔ الۡاَکْمَہَ وَالۡاَبْرَصَ وَاُحۡیِ الْمَوْتٰی بِاِذْنِ اللہِ‘‘ (2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: میں تمہارے لئے مٹی سے پرندے جیسی ایک شکل بناتاہوں پھر اس میں پھونک ماروں گا تو وہ اللّٰہ کے حکم سے فوراً پرندہ بن جائے گی اور میں پیدائشی اندھوں کو اور کوڑھ کے مریضوں کو شفا دیتا ہوں اور میں اللّٰہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کرتا ہوں۔
فَلَمَّا جَآءَ اٰلَ لُوۡطِۣ الْمُرْسَلُوْنَ ﴿ۙ۶۱﴾ قَالَ اِنَّکُمْ قَوْمٌ مُّنۡکَرُوۡنَ ﴿۶۲﴾
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیرکبیر، الحجر، تحت الآیۃ: ۶۰، ۷/۱۵۳۔
2…اٰل عمران:۴۹۔