Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
243 - 601
اَجْمَعِیۡنَ ﴿ۙ۵۹﴾ اِلَّا امْرَاَتَہٗ قَدَّرْنَاۤ ۙاِنَّہَا لَمِنَ الْغٰبِرِیۡنَ ﴿٪۶۰﴾
ترجمۂکنزالایمان:بولے ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔  مگر لوط کے گھر والے ان سب کو ہم بچالیں گے۔  مگر اس کی عورت ہم ٹھہرا چکے ہیں کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں ہے ۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: انہوں نے عرض کیا: ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔سوائے لوط کے گھر والوں کے (کہ) بیشک ان سب کو ہم بچالیں گے۔سوائے اس کی بیوی کے، ہم طے کرچکے ہیں کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔ 
{قَالُوۡۤا:انہوں نے عرض کیا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ فرشتوں نے عرض کی: ہم ایک مجرم قوم یعنی حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں تاکہ ہم انہیں ہلاک کردیں البتہ حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے گھر والوں کو بچا لیں گے کیونکہ وہ ایماندار ہیں۔ (1)
{اِلَّاۤ اٰلَ لُوۡطٍ:سوائے لوط کے گھر والوں کے۔} اس آیت میں مذکور’’اٰلَ لُوۡطٍ‘‘ میں حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے سارے مُتَّبِعین داخل ہیں۔
اللّٰہ تعالیٰ کے بعض کام اس کے محبوب بندوں کی طرف منسوب ہو سکتے ہیں:
	 اس آیت میں فرشتوں نے جو یہ کہا کہ ’’اِنَّا لَمُنَجُّوۡہُمْ اَجْمَعِیۡنَ‘‘ اس سے معلوم ہو اکہ اللّٰہ تعالیٰ کے بعض کام اس کے محبوب بندوں کی طرف منسوب کئے جا سکتے ہیں ،جیسے عذاب سے بچا لینا اللّٰہ تعالیٰ کا کام ہے، مگر فرشتوں نے کہا ’’ان سب کو ہم بچالیں گے‘‘ لہٰذا مسلمان یہ کہہ سکتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اللّٰہ تعالیٰ کے حکم سے عذاب سے بچائیں گے اور یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ یا رسولَ اللّٰہ  !صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہمیں دوزخ سے بچالیں۔
{اِلَّا امْرَاَتَہٗ:مگر اس کی بیوی کو۔} حضرت لوطعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بیوی کا نام واہلہ تھا اور یہ چونکہ کافرہ تھی اس لئے یہ بھی عذاب والوں میں سے ہوئی۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…جلالین، الحجر، تحت الآیۃ: ۵۸-۵۹، ص۲۱۳۔