Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
242 - 601
 بہت پھیلے گی، لہٰذا آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ان لوگوں میں سے نہ ہوں جو بیٹے کی ولادت کی امید چھوڑ چکے۔ (1)
حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت سے نا امید نہ تھے:
	یاد رہے کہ اس آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت سے نا امید ہوچکے تھے ۔ فرشتوں کا آپ سے یہ کہنا ’’فَلَا تَکُنۡ مِّنَ الْقٰنِطِیۡنَ‘‘ ایسے ہی ہے جیسے حضرت لقمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے فرزند سے فرمایا تھا۔ ’’یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِکْ بِاللہِ‘‘ ’’اے میرے بچے! شرک نہ کرنا‘‘ جیسے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ فی الحال وہ شرک کر رہا تھا اسی طرح وہاں بھی یہ لازم نہیں آتا کہ آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام فی الحال نا امید تھے۔
قَالَ وَمَنۡ یَّقْنَطُ مِنۡ رَّحْمَۃِ رَبِّہٖۤ اِلَّاالضَّآلُّوۡنَ ﴿۵۶﴾ قَالَ فَمَا خَطْبُکُمْ اَیُّہَا الْمُرْسَلُوۡنَ ﴿۵۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: کہا اپنے رب کی رحمت سے کون ناامید ہو مگر وہی جو گمراہ ہوئے۔  کہا پھر تمہارا کیا کام ہے اے فرشتو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ابراہیم نے کہا: گمراہوں کے سوا اپنے رب کی رحمت سے کون ناامید ہوتا ہے؟  فرمایا: اے فرشتو! تو تمہارا (ابھی آنے کا) کام کیاہے؟  
{قَالَ:فرمایا۔} یعنی حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرشتوں سے فرمایا ’’میں اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت سے نااُمید نہیں کیونکہ رحمت سے نااُمید کافر ہوتے ہیں ہاں عالَم میں اللّٰہ تعالیٰ کی جو سنت جاری ہے اس سے یہ بات عجیب معلوم ہوئی۔(2) 
{قَالَ:فرمایا۔} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرشتوں سے فرمایا ’’اے فرشتو! اس بشارت کے سوا اور کیا کام ہے جس کے لئے تم بھیجے گئے ہو۔ (3)
قَالُوۡۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰی قَوْمٍ مُّجْرِمِیۡنَ ﴿ۙ۵۸﴾ اِلَّاۤ اٰلَ لُوۡطٍ ؕ اِنَّا لَمُنَجُّوۡہُمْ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۵۵، ۳/۱۰۵، مدارک، الحجر، تحت الآیۃ: ۵۵، ص۵۸۳، ملتقطاً۔
2…مدارک، الحجر، تحت الآیۃ: ۵۶، ص۵۸۳۔
3…خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۵۷، ۳/۱۰۵۔